اسلاموفوبیا کے تدارک کے عالمی دن کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی دن قرار دیا، جس کا مقصد دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تعصب اور نفرت انگیز واقعات کی روک تھام ہے۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں مختلف ممالک میں اسلاموفوبیا کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ عالمی امن اور بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے بھی خطرہ بن رہے ہیں۔ اسحاق ڈار کے مطابق قرآن پاک کی بے حرمتی، مساجد پر حملے اور حجاب پہننے والی خواتین کو نشانہ بنانے جیسے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذہبی رواداری، برداشت اور احترام کے فروغ کے لیے آواز بلند کرتا رہا ہے اور اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی سطح پر مؤثر اقدامات کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ میں خصوصی ایلچی کی تقرری کے فیصلے کا خیر مقدم بھی کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ مسلمانوں کے خلاف نفرت اور امتیازی سلوک کے واقعات کا مؤثر انداز میں تدارک کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: دو سال تک کلاس لینے والے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داؤ پر نہیں لگنے دوں گا: کامران ٹیسوری
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ اسلاموفوبیا کی واضح مذمت کرے اور مذاہب کے درمیان احترام، برداشت اور مکالمے کو فروغ دے،مشترکہ کوششوں کے ذریعے ہی ایک ایسا عالمی ماحول تشکیل دیا جا سکتا ہے جہاں تمام مذاہب اور ثقافتوں کے ماننے والوں کو برابری اور احترام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق حاصل ہو۔







