اسمٰعیلی کونسل کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق، پرنس رحیم 20 مئی کو اسلام آباد پہنچیں گے اور 26 مئی تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ یہ دورہ ان کی امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا پہلا دورہ ہوگا، جسے تاریخی حیثیت حاصل ہے۔

یاد رہے کہ پرنس شاہ کریم الحسینی کے انتقال کے بعد فروری 2025 میں پرنس رحیم نے بطور 50ویں موروثی امام ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ امامت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد وہ دنیا کے مختلف ممالک میں اپنی جماعت سے ملاقاتیں کر چکے ہیں اور اب پاکستان کا دورہ اسی سلسلے کی اہم کڑی ہے۔

 دورے کا آغاز اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی ملاقاتوں سے ہوگا، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے تحت جاری ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ بھی لیں گے، جو ملک کے دور دراز علاقوں میں صحت، تعلیم اور سماجی بہبود کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔

سب سے اہم حصہ دورے کا  ہے کہ وپہ اپنے پیروکاروں سے ملاقاتیں ہیں، جن کے لیے خصوصی پروگرام ترتیب دیے گئے ہیں۔ شیڈول کے مطابق، پرنس رحیم 22 مئی سے 26 مئی کے دوران گلگت بلتستان اور چترال کے مختلف علاقوں کا دورہ کریں گے۔ ان علاقوں میں گلگت، ہنزہ، اشکومن، پونیال، گوپس اور یاسین شامل ہیں، جہاں دیدار کے لیے بڑے پیمانے پر انتظامات مکمل کیے جا چکے ہیں۔

چترال میں بھی ان کے استقبال کے لیے بھرپور تیاریاں جاری ہیں۔ اپر چترال کے مستوج اور لوئر چترال کے گرم چشمہ میں دیدار کے خصوصی مقامات قائم کیے گئے ہیں، جہاں ہزاروں افراد کی شرکت متوقع ہے۔

مقامی انتظامیہ اور رضاکار دیدار گاہوں کی تیاری میں دن رات مصروف ہیں۔ اس حوالے سے اسٹیجز کی تعمیر، سیکیورٹی انتظامات، سڑکوں کی مرمت اور دیگر سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ عقیدت مند رضاکارانہ طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جس سے ان علاقوں میں ایک جشن کا سماں دیکھنے میں آ رہا ہے۔

دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں دیگر مسالک سے تعلق رکھنے والے علماء اور مقامی عمائدین نے بھی دیدار گاہوں کا دورہ کر کے بین المذاہب ہم آہنگی اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے، جسے مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل 2017 میں پرنس کریم آغا خان نے بھی چترال کا دورہ کیا تھا، جہاں انہوں نے بونی اور گرم چشمہ میں اپنے پیروکاروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔

مزید پڑھیں: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا اٹلی کا دورہ، پوپ لیو سے اہم ملاقات متوقع

واضح رہے کہ  پرنس رحیم کا یہ دورہ نہ صرف مذہبی بلکہ سماجی اور ترقیاتی حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک کے ادارے پاکستان کے پسماندہ علاقوں میں معیارِ زندگی بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔

پس منظر کے طور پر، پرنس رحیم 12 اکتوبر 1971 کو جنیوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم سوئٹزرلینڈ میں حاصل کی جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ کی ایک معروف جامعہ سے تقابلی ادب میں ڈگری حاصل کی۔

ان کے اس دورے کو نہ صرف اسمٰعیلی برادری بلکہ ملکی سطح پر بھی خاص اہمیت دی جا رہی ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ دورہ قومی یکجہتی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔