وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے کہا کہ یواین آر ڈبلیو اے نے دہائیوں سے پناہ گزینوں کو تحفظ، تعلیم، صحت، سماجی خدمات اور ہنگامی امداد فراہم کی ہے، جو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے قرارداد 302 (1949) کے مطابق ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی فوج کے زیر قبضہ مشرقی یروشلم کے علاقے شیخ جراح میں یواین آرڈبلیواے ہیڈکوارٹر پر حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔
بیان میں بین الاقوامی عدالت انصاف کی 22 اکتوبر 2025 کی رائے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت یواین آرڈبلیواے کی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے بجائے ان کی سہولت فراہم کرے۔
غزہ میں انسانی بحران کے پیش نظر وزرائے خارجہ نے زور دیا کہ یواین آرڈبلیواے کی امدادی سرگرمیاں انتہائی ضروری ہیں تاکہ راشن، ریلیف آئٹمز اور بنیادی ضروریات متاثرہ افراد تک بروقت پہنچیں۔
🔊PR No.3️⃣7️⃣5️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣5️⃣
— Ministry of Foreign Affairs - Pakistan (@ForeignOfficePk) December 12, 2025
Joint Statement by the Foreign Ministers of Pakistan, Egypt, Indonesia, Jordan, Qatar, Saudi Arabia, Türkiye, and United Arab Emirates
🔗⬇️https://t.co/OcZxvZlvxr pic.twitter.com/o8JAydWlq6
ان کا کہنا تھا کہ یواین آرڈبلیو اے کے اسکول اور صحت کے مراکز غزہ میں پناہ گزین کمیونٹیز کے لیے زندگی کی لائن ہیں اور یہ تعلیمی و طبی سہولیات انتہائی مشکل حالات میں بھی فراہم کر رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے یواین آرڈبلیو اے کے کردار کو ناقابلِ متبادل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی اور ادارے کے پاس یہ انفراسٹرکچر، مہارت اور فیلڈ موجودگی نہیں ہے جو فلسطینی پناہ گزینوں کی ضروریات کو پورا کر سکے۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ یواین آرڈبلیواے کے لیے مستحکم اور مناسب مالی وسائل فراہم کیے جائیں اور اسے اپنے آپریشنز جاری رکھنے کے لیے سیاسی اور عملی ماحول دیا جائے۔
بیان میں زور دیا گیا کہ یواین آرڈبلیواے کی حمایت خطے میں استحکام برقرار رکھنے، انسانی وقار کی حفاظت کرنے اور فلسطینی پناہ گزینوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جب تک کہ ان کے مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں بشمول جنرل اسمبلی قرارداد 194 کے مطابق حاصل نہ ہو۔







