اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے جنرل اسمبلی کے خصوصی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات اس امر کے متقاضی ہیں کہ بین الاقوامی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور ثالثی کو اولین ترجیح دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو جنگوں کے نتائج کا انتظار کرنے کے بجائے تنازعات کی ابتدائی علامات پر ہی متحرک ہونا ہوگا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے امن، مکالمے اور سفارتی ذرائع کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے اور یہی اصول پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاد بھی ہیں، اقوام متحدہ کے منشور میں درج اصولوں کے مطابق تمام رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ اختلافات اور تنازعات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے سنجیدہ کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک یا خطے میں امن سے وابستگی کا حقیقی امتحان اس وقت ہوتا ہے جب عالمی برادری تنازعات کے آغاز سے پہلے ان کے سدباب کے لیے اقدامات کرے، کیونکہ جنگ شروع ہونے کے بعد اس کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورا خطہ اور عالمی استحکام متاثر ہوتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ثالثی دراصل جنگ اور امن کے درمیان ایک مؤثر پل کی حیثیت رکھتی ہے، جو تصادم کی بجائے مکالمے، طاقت کی بجائے دلیل اور نفرت کی بجائے مفاہمت کو فروغ دیتی ہے۔ ان کے مطابق جب سفارتی رابطے کمزور پڑ جائیں، مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہو جائے اور اختلافات کو نظر انداز کیا جائے تو تنازعات جنم لیتے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داری صرف بحران پیدا ہونے کے بعد ردعمل دینے تک محدود نہ رکھے بلکہ ایسے مؤثر نظام تشکیل دے جو تنازعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی روک سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ لاکھوں انسانی جانوں کے ضیاع اور وسیع تباہی سے بچنے کا واحد راستہ بروقت سفارتی مداخلت ہے۔

سفیر عاصم افتخار نے یاد دلایا کہ جولائی 2025 میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں پیش کی گئی قرارداد 2788 کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا تھا، جس میں تنازعات کے پرامن حل، ثالثی کے فروغ اور علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے مؤثر کردار پر زور دیا گیا تھا، اس قرارداد نے عالمی امن کے لیے مشترکہ ذمہ داری کے تصور کو مزید مضبوط کیا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ ایران کے قریبی ہمسایہ، خلیجی ممالک کے قابل اعتماد شراکت دار اور امریکا کے ساتھ طویل سفارتی تعلقات رکھنے والے ملک کے طور پر پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے مسلسل کوششیں کر رہا ہے، پاکستان ہمیشہ ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کی راہ ہموار کریں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اقوام متحدہ کو بروقت انتباہی نظام (Early Warning System)، احتیاطی سفارت کاری، خصوصی نمائندوں کے فعال کردار اور منشور کے باب ششم کے مؤثر نفاذ کو مزید مضبوط بنانا چاہیے تاکہ تنازعات کے امکانات کو کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: افغان حکومت کے دعوؤں پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا، پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا: خواجہ آصف

دریں اثنا، لبنان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے شدید تشویش کا اظہار کیا،  لبنان کا تقریباً 20 فیصد علاقہ اس وقت اسرائیلی قبضے میں ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری غیر یقینی صورتحال اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسلسل فوجی کارروائیوں اور انخلا کے احکامات نے عام شہریوں کی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خواتین، بچوں اور بزرگوں سمیت لاکھوں افراد کو اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہونا پڑا ہے جبکہ بنیادی سہولیات کا نظام بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔

پاکستانی مندوب نے خبردار کیا کہ لبنان میں رونما ہونے والے واقعات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں، وہاں جو صورتحال سامنے آ رہی ہے، اس میں اندھا دھند حملے، شہری آبادیوں کی نقل مکانی اور وسیع پیمانے پر تباہی جیسے عناصر نمایاں ہیں، جو بین الاقوامی قوانین اور انسانی اصولوں کے منافی ہیں۔

انہوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ رواں سال مارچ سے اب تک لبنان میں 3 ہزار 400 سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ 10 لاکھ سے زائد شہری اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر مختلف علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے اقوام متحدہ کے انسانی امدادی رابطہ کار کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لبنان میں انسانی صورتحال تیزی سے خراب ہو رہی ہے اور عام شہری مسلسل تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصانات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ لبنان میں فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور پائیدار سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ عالمی سطح پر امن، استحکام، سفارت کاری اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا اور تمام تنازعات کے حل کے لیے پرامن ذرائع کی حمایت کرتا رہے گا۔