رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ زمین کے اندراج کے اس عمل کا مقصد اراضی کے ریکارڈ کو باقاعدہ بنانا اور ملکیتی تنازعات کو حل کرنا ہے۔ تاہم فلسطینی قیادت اور مختلف انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام کو متنازع قرار دیتے ہوئے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس سے مقامی فلسطینی آبادی کی زمینوں پر ریاستی دعویٰ مضبوط کیا جائے گا۔

فیصلے کے تحت فلسطینی شہریوں کو اپنی زمین کی ملکیت ثابت کرنے کے لیے سرکاری دستاویزات جمع کرانا ہوں گی۔ مبصرین کے مطابق کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ، نقل مکانی اور پیچیدہ قانونی تقاضوں کے باعث بہت سے فلسطینیوں کے لیے ملکیت ثابت کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے، کم از کم نو فلسطینی شہید، خیمہ بستی بھی نشانہ بنی

ادھر فلسطینی حکام نے اسرائیلی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف دو ریاستی حل کی راہ مزید پیچیدہ ہوگی بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچے گا۔

دوسری جانب غزہ میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی حملوں میں مزید 11 فلسطینی شہید ہوگئے ہیں، جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری کے باعث انسانی بحران مزید شدت اختیار کرگیا ہے اور طبی سہولیات شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

علاوہ ازیں لبنان اور شام کی سرحدی پٹی پر بھی صورتحال کشیدہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈرون حملوں میں 4 لبنانی شہری جاں بحق ہوگئے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا پائی جاتی ہے اور شہری آبادی عدم تحفظ کا شکار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مغربی کنارے سے متعلق حالیہ فیصلہ، غزہ میں جاری کارروائیاں اور سرحدی جھڑپیں مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کی بحالی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔