یاد رہے کہ یہ واقعہ حال ہی میں اس وقت پیش آیا جب اسرائیل نے غزہ جانے والے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکا۔ اس فلوٹیلا میں ڈاکٹرز، امدادی کارکن اور انسانی حقوق کے رضاکار شامل تھے۔ اس کارروائی میں پاکستانی سابق سینیٹر مشتاق احمد خان کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ فلوٹیلا کا مقصد محصور غزہ کے عوام کے لیے انسانی امداد پہنچانا تھا۔
اس معاملے پر ردعمل دیتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے امدادی کارکنوں کو گرفتار کرنا انسانیت کے خلاف اقدام ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق سینیٹر کو حراست میں لینا عاالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل نے گلوبل صمود فلوٹیلا کو روک کر ڈاکٹروں اور رضاکاروں کو حراست میں لے کر انسانیت پر کھلا حملہ کیا ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ غزہ کے لیے انسانی راہداری کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور فلسطینی عوام کو انصاف فراہم کیا جائے۔
امکان ہے کہ پاکستانی دفتر خارجہ آئندہ چند روز میں اسرائیلی اقدام پر ردعمل دے گا۔ دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیمیں اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کر رہی ہیں اور اقوام متحدہ سے بھی اس معاملے میں مداخلت کی اپیل کی جا رہی ہے۔






