وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے میں الجزائر، بنگلہ دیش، کوموروس، جبوتی، مصر، گیمبیا، انڈونیشیا، ایران، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، پاکستان، فلسطین، قطر، سعودی عرب، صومالیہ، سوڈان، ترکیہ، یمن اور اسلامی تعاون تنظیم شامل ہیں۔

اعلامیے میں 27 دسمبر 2025 کو جاری ہونے والے سابقہ بیان کو یاد کرتے ہوئے اسرائیل کی جانب سے ’سومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کے اقدام کو مسترد کیا گیا اور 6 جنوری 2026 کو اسرائیلی عہدیدار کے دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ دورہ وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہے اور اقوام متحدہ کے چارٹر سمیت بین الاقوامی اصولوں کو کمزور کرتا ہے۔ وزرائے خارجہ نے صومالیہ کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں اس امر پر زور دیا گیا کہ علیحدگی پسند ایجنڈوں کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے اور یہ پہلے سے نازک خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔ ساتھ ہی بین الاقوامی قانون کے احترام، خودمختار ریاستوں کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت اور سفارتی اصولوں کی پاسداری کو علاقائی اور عالمی استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا۔

مشترکہ بیان میں وفاقی جمہوریہ صومالیہ کی پرامن بین الاقوامی روابط، تعمیری سفارتکاری اور بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے عزم کو سراہا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صومالیہ کی جانب سے اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور استحکام کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے سفارتی اور قانونی اقدامات کی مسلسل حمایت جاری رکھیں گے۔

اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صومالیہ کی خودمختاری، قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے، بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ’سومالی لینڈ‘ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لے۔

اعلامیے کے اختتام پر کہا گیا کہ صومالیہ کی سالمیت اور استحکام پورے خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے اور اس حوالے سے کسی بھی غیر قانونی اقدام کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔