ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر نے کہا کہ برطانیہ میں قیادت کی تبدیلی کے بعد نئی حکومت کے ابتدائی فیصلوں نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ ان کے مطابق نئے وزیراعظم برنہم نے منصب سنبھالتے ہی امریکہ کو فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دی، جبکہ ایران میں تعینات برطانوی سفارتکاروں کو بھی واپس بلا لیا گیا۔

رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ان واقعات کی ترتیب اور وقت پر غور کیا جائے تو متعدد پہلو ایسے ہیں جو توجہ کے متقاضی ہیں،  سابق وزیراعظم کے استعفے اور اس کے فوری بعد کیے گئے حکومتی فیصلے بظاہر غیر معمولی دکھائی دیتے ہیں، جن پر مختلف حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں عالمی طاقتوں کے فیصلے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ بین الاقوامی سیاست پر بھی اثرانداز ہوتے ہیں اور اس بات پر  زور دیا کہ ایسے معاملات میں شفافیت اور حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے تاکہ عالمی برادری درست تناظر میں صورتحال کا جائزہ لے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران ہمیشہ یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ علاقائی تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ہے، جبکہ کسی بھی قسم کی عسکری کشیدگی پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران مذاکرات کے لیے سنجیدہ ہے، ڈیل کے لیے نہیں، صدر ٹرمپ

رضا امیری مقدم نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا کہ برطانیہ میں سیاسی تبدیلی کے بعد سامنے آنے والے فیصلوں اور اقدامات کا غیر جانبدارانہ تجزیہ ہونا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ ان کے پس منظر میں کون سے عوامل کارفرما تھے۔