پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کا ٹاسک محمود خان اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو دیا ہے۔ حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو عوامی مفادات کے مطابق پالیسیاں تشکیل دینی چاہئیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ اگر کسی تقریب یا میٹنگ کا موقع ملا تو وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ضرور ملاقات کریں گے۔ ملک میں آئین و قانون کی بالادستی ضروری ہے اور عمران خان کی رہائی کے لیے بات چیت کا ماحول اور حالات سازگار ہونے چاہئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کا باہر نکلنا جائز ہے اور وہ اپنے بھائی کی رہائی کے لیے کوشاں ہیں۔ کراچی جانے کا مقصد عوام کو عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک کرنا ہے۔
انہوں نے لاہور کے دورے کے دوران نامناسب زبان کے استعمال کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل کا ردعمل تھا، تاہم وہ اس پر معذرت کر چکے ہیں۔
دوسری جانب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے گفتگو میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق نے ضم اضلاع کے لیے 568 ارب روپے کے بقایہ جات تاحال ادا نہیں کیے۔ گزشتہ 7 سالوں میں وفاق نے صرف 168 ارب روپے دیے، جب کہ ایک ہزار ارب روپے میں سے اب بھی 700 ارب سے زائد رقم مرکز کے ذمے واجب الادا ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ان کی حکومت کی کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی ہے اور حکومت کے اصول شفافیت، میرٹ، ترقی اور کرپشن کا خاتمہ ہیں۔ ضم اضلاع کے لیے ملنے والی رقم کو ترتیب کے ساتھ انہی علاقوں میں خرچ کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال ان کی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ تیراہ سمیت جہاں سے بھی لوگ نقل مکانی کریں گے، ان کے معاوضے صوبائی حکومت ادا کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اسکولوں اور اسپتالوں کی سہولیات سے متعلق پروپیگنڈا کیا جاتا ہے، اگر وفاق بقایہ جات ادا کرے تو سہولیات میں واضح بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین ضم اضلاع کی 75 سالہ محرومیوں کا ملبہ بھی موجودہ حکومت پر ڈال رہے ہیں۔ بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے کوششیں جاری ہیں، ٹرانسمیشن لائنز اور پیسکو کے ذمے واجب الادا رقوم کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جب کہ خالص منافع کے معاملے پر بھی وفاق سے بات کی جا رہی ہے۔ پیسکو کو صوبائی حکومت کے زیرانتظام لانے کے امکان کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ لاہور کا دورہ عوام میں بیداری پیدا کرنے کے لیے کیا گیا تھا، تاہم غلط زبان کے استعمال پر وہ معذرت کر چکے ہیں۔ پشاور کو ترقی دی جائے گی، تاہم لاہور جیسی صورتحال نہیں ہوگی جہاں جلسہ جلوسوں پر پابندیاں ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ تمام سابق وزرا اور حکومتی ٹیم کے ارکان سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں اور دفاتر کے تالے کھلوا دیے گئے ہیں۔ کابینہ میں توسیع جلد کی جائے گی، تاہم جن افراد پر الزامات ہیں ان کا کلیئر ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت گورننس پر توجہ دے رہی ہے اور اپنی 100 دن کی کارکردگی جلد عوام کے سامنے رکھیں گے۔







