اجلاس کے دوران سحر کامران نے کہا کہ آپ وزیر ہیں اور اونچی آواز میں بات کر رہے ہیں، میری بے عزتی ہوئی ہے اور میں اس پر سمجھوتہ نہیں کروں گی۔ ان کے اس مؤقف کے بعد انہوں نے احتجاجاً اجلاس چھوڑ دیا۔
🚨کمیٹی اجلاس میں عطا تارڑ اور سحر کامران میں تلخ جملوں کا تبادلہ.. سحر کامران کا واک آؤٹ، عطا تارڑ کا بھی احتجاج ریکارڈ..
— Mehwish Qamas Khan (@MehwishQamas) July 21, 2026
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس میں تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد سحر کامران نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کر دیا۔ سحر کامران نے کہا، "آپ وزیر ہیں اور اونچی آواز میں بات کر… pic.twitter.com/DtvQQYXRiC
اس پر وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایک رکن نے کمیٹی کو ہائی جیک کر رکھا ہے، اگر ریکارڈ نکال لیا جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ ان کے دور میں کتنی بھرتیاں ہوئیں۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ آنکھیں دکھانا روایت بن گیا ہے، ایک رکن کا پوری کمیٹی پر حاوی ہونا قابل قبول نہیں، میرا بھی احتجاج ریکارڈ کیا جائے۔
اجلاس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی تلخ کلامی کے باعث کچھ دیر کے لیے کشیدگی پیدا ہوگئی، جب کہ سحر کامران کے واک آؤٹ کے بعد اجلاس کی کارروائی جاری رہی۔







