وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چودھری کا کہنا تھا کہ انڈیا نے اعجاز ملاح کو ٹاسک دے کر واپس پاکستان بھیجا، اعجاز ملاح سے فوجی وردیاں، کرنسیاں اور دیگر چیزیں منگوائی گئیں۔ پاکستان ادارے چوکنا ہیں اور دشمن کی ہر حرکت پر نظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کی خفت مٹانے کے لیے انڈیا مسلسل سازشیں کررہا ہے، انڈیا کے گودی میڈیا اور پاکستان کے ذمہ دار میڈیا کا تقابلی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔ زونگ کی سم کا استعمال پہلی دفعہ نہیں، پہلگام میں بھی چینی سیٹلائٹ کا الزام لگایا گیا۔زونگ سم کے استعمال کا مقصد چین کے خلاف بیانیہ بنانا ہے۔

طلال چودھری کا کہنا تھا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ کابل میں ہوٹل کا پانچواں فلور آئی ایس آئی کے پاس ہے، ہم نے تصویر چلائی کہ کابل کے اس ہوٹل میں صرف دو فلور ہیں۔ جعفر ایکسپریس سانحے کی ویڈیو پہلے انڈین میڈیا پر کیسے چل گئی؟ 

انہوں نے کہا کہ ہم خودمختار ملک ہیں، ہماری سرزمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہوتی، ہم چاہیں گے کہ ہمارے خلاف کسی ملک کی سرزمین استعمال نہ ہو، اب پھر بہار کے الیکشن قریب ہیں، کبھی پہلگام حملے میں ناکام ہوتے ہیں تو کرکٹ میچ میں خفت مٹاتے ہیں۔ پاکستانی وردیاں، پاکستانی سگریٹ اور سمز خریدنے کا مقصد واضح ہے۔

مزید پڑھیں: افغانستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کی سرپرستی بند ہونے تک تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، وزیر دفاع خواجہ آصف

دوسری جانب عطاء تارڑ کا کہنا تھا کہ اعجاز ملاح رنگے ہاتھوں پکڑا گیا، اعجاز ملاح کو یونیفارم اور دیگر اشیاء کے ساتھ اس مقام پر پکڑا، جہاں وہ انڈین سمندری حدود میں داخل ہونا چاہتا تھا،مودی سرکار ہر الیکشن کے وقت ایسے ڈرامے کرتی ہے۔یہ اب اسی طرح کا ڈرامہ رچانے کا منصوبہ بنانا چاہتے ہیں۔

وزیرِاطلاعات و نشریات نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی ادارے ہر طرح سے الرٹ ہیں، ہمیں انڈیا اور افغانستان کے گٹھ جوڑ سے کوئی فرق نہیں پڑتا، استنبول اعلامیہ سرحد پار کارروائیوں پر مکمل وضاحت رکھتا ہے، فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کا سرکچلا جارہا ہے، ہر قسم کی دہشتگردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہیں۔