ذرائع کے مطابق جیٹ فیول کی قیمتوں میں اضافے کے باعث فضائی کمپنیوں نے کرایوں میں 10 سے 20 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے، جس کا براہ راست اثر عام مسافروں پر پڑا ہے۔ مہنگے ٹکٹوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں شہریوں نے اندرون ملک فضائی سفر کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرنا شروع کر دیے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اندرون ملک پروازوں میں مسافروں کی تعداد میں تقریباً 40 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو عید جیسے مصروف سیزن میں ایک غیر معمولی رجحان قرار دیا جا رہا ہے۔یہ کمی بڑھتی مہنگائی اور سفری اخراجات میں اضافے کا نتیجہ ہے۔
دوسری جانب بیرون ملک سے پاکستان واپسی کا رجحان خاصا بڑھ گیا ہے۔ خصوصاً سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے موجود پاکستانیوں اور خلیجی ممالک میں مقیم افراد کی بڑی تعداد عید اپنے اہل خانہ کے ساتھ منانے کے لیے وطن واپس آ رہی ہے۔
ایوی ایشن ذرائع کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے آنے والی پروازوں میں رش بڑھنے کے باعث ایئرلائنز نے اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے بین الاقوامی روٹس پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ اسی سلسلے میں قومی اور نجی ایئرلائنز نے خلیجی ممالک سے آنے والی پروازوں کی تعداد میں اضافہ کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نجی ایئرلائنز کی جانب سے بھی عید کے دنوں میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایک درجن سے زائد اضافی پروازیں شامل کی گئی ہیں، تاکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو بروقت اور سہل سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
واضع رہے کہ اگر ایندھن کی قیمتوں میں یہی رجحان برقرار رہا تو مستقبل میں بھی اندرون ملک فضائی سفر متاثر ہو سکتا ہے، جبکہ بین الاقوامی روٹس پر مسافروں کا دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
عیدالفطر کے موقع پر سفر کے بدلتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی عوامل اب لوگوں کے سفری فیصلوں پر براہ راست اثر انداز ہو رہے ہیں، اور فضائی کمپنیاں بھی اسی کے مطابق اپنی پالیسیوں میں تبدیلیاں لا رہی ہیں۔







