وزیراعظم نے کاروباری برادری کے ٹیکس اصلاحات پر بڑھتے اعتماد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کراچی کے ساتھ لاہور میں بھی 2 روز قیام کریں اور کاروباری برادری کے مسائل حل کریں۔

انہوں نے اسمگلنگ، ٹیکس چوری اور غیر قانونی کاروبار کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے اور ایف بی آر کی حساس پوسٹوں پر اچھی شہرت کے حامل، ایماندار اور اہل افسران و اہلکار تعینات کرنے کی ہدایت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اے آئی اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی فیس لیس ان لینڈ ریونیو نظام کا پہلا مرحلہ یکم اکتوبر 2026 سے فعال ہوگا، جبکہ مکمل نظام 2027 تک رول آؤٹ کیا جائے گا۔ نظام کے تحت ٹیکس کیسز کا دائرہ اختیار جغرافیائی حدود کے بجائے رینڈم بنیادوں پر مختص ہوگا۔

وزیراعظم نے چکوال اور صوابی میں غیر قانونی سگریٹ فیکٹریوں کے خلاف ایف بی آر کی انٹیلیجنس بیسڈ کارروائیوں کو سراہا۔ بریفنگ کے مطابق چکوال میں فیکٹری سیل کرکے غیر قانونی سگریٹ کا ذخیرہ اور مشینری قبضے میں لے لی گئی، جبکہ صوابی میں بھی کارروائی کی گئی۔

چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ کراچی میں 7 بڑے تجارتی اداروں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کرکے ان کے مسائل فوری حل کیے گئے، جبکہ برآمد کنندگان کے ٹیکس ریفنڈز کے لیے ٹائم باؤنڈ ایس او پیز جاری کیے جارہے ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزرا اعظم نذیر تارڑ، مصدق مسعود ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزا فاطمہ خواجہ، معاون خصوصی ہارون اختر، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔