کراچی میں ’جینے دو کراچی کو‘ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی منی پاکستان ہے اور تین کروڑ آبادی کی نمائندگی کرتے ہوئے عوام شاہراہِ فیصل پر جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس شہر کے نوجوان تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، مگر حکمران نہیں چاہتے کہ یہ آگے بڑھیں۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ ویڈیرے اور جاگیردار اس شہر پر مسلط ہیں، اسی وجہ سے یہاں کوئی ترقی نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگی تو 23 گھنٹے بعد میئر کراچی موقع پر پہنچا، وزیراعلیٰ بھی تاخیر سے آئے، جب کہ بلاول بھٹو اور آصف علی زرداری نے متاثرین کے دکھوں کا مداوا نہیں کیا۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ جل چکا، لوگ جل کر جانیں گنوا بیٹھے، لیکن اتنے دن گزرنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف موقع پر نہیں آئے اور نہ ہی افسوس کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ شہر پر وفاق کا قبضہ ہونا چاہیے اور کبھی صوبائی حکومت کی بات کی جاتی ہے، مگر جماعتِ اسلامی کا مطالبہ ہے کہ آئین کے مطابق مقامی حکومتوں کو بااختیار بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک بھٹو خاندان اور چالیس وڈیروں نے سندھ پر قبضہ جما رکھا ہے اور یہ مارچ صرف آغاز ہے۔ مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ اگر سندھ اسمبلی پر دھرنے کا اعلان کیا جائے تو کیا آپ ساتھ دیں گے؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں کچھ نہیں چاہیے، صرف اپنے بچوں کا حق چاہیے۔

حکومت پر تنقید کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ بسوں کے لیے اربوں روپے کے اشتہارات چلائے جا رہے ہیں، جو عوام کے ٹیکسوں کا پیسہ ہے، جب کہ نوجوان مہنگا پیٹرول ڈلوا کر ٹوٹی سڑکوں پر سفر کر رہے ہیں اور مائیں، بہنیں چنگچی رکشوں میں دھکے کھانے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر دھول اور مٹی کا ڈھیر بن چکا ہے، جس کے باعث لوگ سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مافیا کا نظام زرداری ہاؤس سے چل رہا ہے اور ان لوگوں کو بھی جواب دینا ہوگا جنہوں نے ایسے عناصر کو عوام پر مسلط کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ 14 فروری کو سندھ اسمبلی کے باہر کامیاب اور تاریخی دھرنا دیا جائے گا اور حق لے کر ہی اٹھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کراچی اپنا حق مانگنے کے لیے سڑکوں پر ہے اور جب یہاں دھرنا ہوگا تو اسلام آباد میں عوام پارلیمنٹ کی طرف رخ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں لوگ جل کر جانیں دے دیتے ہیں، مگر کوئی ادارہ ایسا نہیں جو ذمہ داری قبول کرے۔ گل پلازہ میں لوگ جلتے رہے، شہر بے بسی کی تصویر بنا رہا، نہ میئر موجود تھا اور نہ وزیراعلیٰ اور جب آگ بجھ گئی تو سیاست شروع ہو گئی۔

امیر جماعتِ اسلامی نے سوال اٹھایا کہ گل پلازہ میں فائر سیفٹی سسٹم کیوں موجود نہیں تھا اور جب آگ لگی تو فائر بریگیڈ کے پاس نہ پانی تھا اور نہ ڈیزل۔ انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) اور متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے کراچی کی آبادی بھی کم ظاہر کی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام جینے کا حق مانگ رہے ہیں، آج بھی شہر کی پچاس فیصد آبادی پانی سے محروم ہے، دس دس سال سے منصوبے چل رہے ہیں، گرین لائن آج تک مکمل نہیں ہو سکی، ریڈ لائن 2023 میں مکمل ہونی تھی مگر اب تک تعمیر نہیں ہو سکی۔ انہوں نے کہا کہ یہ شہر سب کو چلا رہا ہے، مگر بدلے میں اسے کچھ نہیں دیا جا رہا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آصف علی زرداری کو صدر بنانے میں ایم کیو ایم نے ووٹ دیا، مگر کراچی کو کیا ملا؟ انہوں نے واضح کیا کہ کراچی کا حق لے کر رہیں گے اور کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریں گے۔

انہوں نے سانحہ گل پلازہ کی شفاف جوڈیشل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کی سربراہی میں جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ محض خطوط لکھنے سے کام نہیں چلے گا، یہ بھی بتایا جائے کہ ایس بی سی اے کا کردار کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سکیورٹی فورسز نے 40 گھنٹوں کے دوران 145 دہشتگرد ہلاک کیے، وزیراعلیٰ بلوچستان

امیر جماعتِ اسلامی کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے زرداری ہاؤس سے چلتا ہے۔ انہوں نے نظام ختم کرنے کے دعوے کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تم نے نظام ختم کرنے کے بجائے اسے اسلام آباد میں بٹھا دیا اور بی ٹیم کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں وڈیرہ شاہی اور ملوکیت نہیں چلے گی۔ جب ترامیم آتی ہیں تو عوام کے حق میں کیوں نہیں آتیں؟ مسلم لیگ (ن) ایک خاندان کی جماعت بن چکی ہے اور پیپلز پارٹی میں بھی سیاست کو وراثت بنا دیا گیا ہے، جس کی نقل دیگر جماعتیں کر رہی ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لاہور کو بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا، ہم حقیقی تبدیلی چاہتے ہیں، کراچی کو حقوق دو، ورنہ یہاں بھی وہی حالات پیدا ہوں گے جو دیگر صوبوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی عوام کو مثبت راستے پر لا رہی ہے، لوگوں کو دہشت گرد بنانے کی کوشش بند کی جائے، ٹرمپ کی طرف جھکنا چھوڑا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی حق پر ہیں، حماس حق ہے، اور ہم اسرائیل یا ٹرمپ کا ساتھ نہیں دے سکتے۔

آخر میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وہ 14 فروری کو عوام کے پاس دوبارہ آئیں گے اور اس بار تعداد دگنی ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سیاست اقتدار کے لیے نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے کی جا رہی ہے۔ دھرنے کے دوران روزہ رکھا جائے گا، تراویح ادا کی جائیں گی اور حق لے کر ہی اٹھا جائے گا۔

امیر جماعتِ اسلامی پاکستان نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے باہر دیا جانے والا دھرنا تاریخی ثابت ہوگا۔