مبینہ آڈیو میں سلمان اکرم راجا کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کھلی کتاب ہے اور انہوں نے اپنی زندگی اس طرح نہیں گزاری کہ کسی کو ان پر انگلی اٹھانے کا موقع ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ جو بات کرنی ہے کی جائے، تاہم یہ بھی بتایا جائے کہ انہوں نے ایسی کون سی بات کی ہے جسے سازش قرار دیا جا رہا ہے۔ سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ان کی زندگی کے بارے میں سب جانتے ہیں اور ان کی زندگی میں کوئی ایسا لمحہ نہیں جس پر انہیں شرمندگی ہو یا جسے چھپانے کی ضرورت پڑے۔
مبینہ آڈیو میں مشال یوسفزئی نے کہا کہ پارلیمنٹیرینز کا کام عدالتوں میں نہیں بلکہ عدالتوں کے باہر ہونا چاہیے، جبکہ دباؤ بار کونسل کے ارکان نے بنانا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض افراد کو پیسے لے کر ٹکٹ دیے گئے اور سازشیں اور لابنگ کرکے ٹیم تشکیل دی گئی، جبکہ ان افراد کا پی ٹی آئی اور انصاف لائرز فورم (آئی ایل ایف) سے کوئی تعلق نہیں تھا، پھر بھی انہیں رکن بنایا گیا۔
مشال یوسفزئی نے مبینہ گفتگو میں کروڑوں روپے کی کنسلٹنسی فیس لینے کا بھی الزام عائد کیا اور کہا کہ اگر ان کے دعوے غلط ثابت ہوئے تو وہ گروپ میں معافی مانگنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ سازشیں کی گئیں اور جھوٹ بولا گیا، جبکہ بار کونسل کے ارکان سے متعلق سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہیں بتایا جائے کہ بار کونسل کے ارکان کہاں ہیں۔
مبینہ آڈیو میں مشال یوسفزئی نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ اس معاملے پر تفصیل سے بات کرنا شروع کردیں تو متعلقہ افراد حیران و پریشان ہوجائیں گے۔
قریبی ذرائع کے مطابق مبینہ آڈیو میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی۔
تاہم سامنے آنے والی آڈیو کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی اور یہ بھی واضح نہیں کہ گفتگو کب اور کس تناظر میں ہوئی۔







