انہوں نے خیبرپختونخوا کے نومنتخب وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ وہ کہتے ہیں وہ پرچی وزیرِاعلیٰ نہیں ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں دو خواتین کی لڑائی کے نتیجے میں لایا گیا اور علیمہ باجی کے کہنے پر ان کی تقرری ہوئی۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ایک وزیرِاعلیٰ بیگم کے کہنے پر لگایا گیا تھا، اب دوسرا باجی کے کہنے پر لگایا گیا ہے۔
وزیرِ اطلاعات نے بتایا کہ جنوبی پنجاب کے لیے مخصوص کارڈ اسکیم کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے، جبکہ ’ستھرا پنجاب فلیگ شپ پروگرام‘ کے تحت مختلف اضلاع میں صفائی اور صحت کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں میل پروگرامز کے مثبت اثرات دیکھنے میں آ رہے ہیں، خصوصاً بچوں کی صحت کے حوالے سے۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ ’اپنی چھت، اپنا گھر‘ پروگرام کے تحت 60 ہزار گھر زیرِ تعمیر ہیں جبکہ 924 مکانات مکمل ہو چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پنجاب کے لائیو اسٹاک سیکٹر میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ اب تک 4014 افراد کے شناختی کارڈ رجسٹر کیے جا چکے ہیں اور 9400 ٹریکٹرز کاشتکاروں میں تقسیم کیے جا چکے ہیں۔
انہوں نے امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پاکستان کے اندر حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا یا دہشتگردی کے لیے کسی دوسرے ملک کی سرزمین استعمال ہوگی تو حکومت سخت کارروائی کرے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے سڑکیں بند کرنا اور شہریوں کو بلاوجہ تکلیف دینا ناقابلِ قبول ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب حکومت بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، اور عام شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات مسلسل جاری رہیں گے۔






