دفتر خارجہ میں ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان نے علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا، پاکستان ایس سی او کے رکن ممالک کے ساتھ رابطوں کو مزید مؤثر بنانے اور خطے میں تعاون کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں بھرپور انداز میں ادا کرے گا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم پاکستان ایس سی او سربراہانِ مملکت کی کانفرنس میں شرکت کے لیے بشکیک جائیں گے۔ اجلاس میں تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان خطے کی سکیورٹی، معاشی تعاون، علاقائی روابط اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے لیے ایس سی او کی صدارت ایک اہم ذمہ داری ہے اور اسلام آباد تنظیم کے پلیٹ فارم کو خطے میں امن، استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے استعمال کرے گا، پاکستان رکن ممالک کے درمیان روابط مضبوط بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے فعال کردار ادا کرتا رہے گا

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی سے متعلق سوال پر ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران کا دورہ پاکستان کی امن اور سفارتی کوششوں کا حصہ تھا، دورے کا مقصد فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور خطے میں مزید عدم استحکام سے بچنے کے لیے سفارتی رابطوں کو آگے بڑھانا تھا۔

ترجمان نے اس تاثر کو بھی مسترد کردیا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران کا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی کی حیثیت سے کیا تھا، پاکستان اپنی خارجہ پالیسی اور سفارتی کوششیں اپنے قومی مفادات اور خطے میں امن و استحکام کے اصولوں کے مطابق جاری رکھے ہوئے ہے۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور فوجی تعطل کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ پاکستان نے برادر اور دوست ممالک کے ساتھ مل کر مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوششیں کی ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان کسی دہشت گرد گروہ سے مذاکرات نہیں کرے گا، دفتر خارجہ

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سمجھتا ہے کہ موجودہ علاقائی بحران کا پائیدار حل طاقت کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اسلام آباد خطے کے تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے 14 اگست کو تہران کا دورہ کیا تھا، جہاں ایرانی قیادت کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں علاقائی صورتحال، کشیدگی میں کمی، فوجی تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے تنازع کے حل پر توجہ مرکوز کی گئی۔

طاہر اندرابی کے مطابق نائب وزیراعظم نے ترک وزیر خارجہ سے بھی 17، 19 اور 25 اگست کو تین مرتبہ ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ ان رابطوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام اور سفارتی کوششوں کو مزید آگے بڑھانے کے طریقہ کار پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترجمان نے بتایا کہ اسحاق ڈار نے اپنے کویتی ہم منصب سے بھی رابطہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے کے اہم ممالک کے ساتھ مشاورت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے اور مختلف دارالحکومتوں کے ساتھ سفارتی روابط کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ نائب وزیراعظم اس وقت لندن کے دورے پر ہیں، جہاں انہوں نے انٹرنیشنل میری ٹائم سیکیورٹی کے سربراہ سے ملاقات کی، جبکہ گزشتہ روز دولت مشترکہ کی سربراہ سے بھی ملاقات ہوئی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے، فوجی محاذ آرائی روکنے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، موجودہ علاقائی چیلنجز کا دیرپا اور قابلِ عمل حل مذاکرات، باہمی رابطوں اور سفارت کاری ہی کے ذریعے ممکن ہے۔

مزید پڑھیں: امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تناظر میں پاکستان کی ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، دفتر خارجہ

افغانستان کے ساتھ تعلقات اور دہشتگردی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغان عبوری حکومت کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان حکام کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ اپنی سرزمین سے ہونے والی دہشتگردی کے خلاف مؤثر اور عملی اقدامات کررہے ہیں۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ مذاکرات کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، لیکن دہشتگردی کے معاملے پر صرف زبانی یقین دہانیاں کافی نہیں ہوں گی۔ افغان حکام کو عملی اقدامات کے ساتھ ساتھ ان اقدامات کے ٹھوس شواہد بھی فراہم کرنا ہوں گے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بنیادی تشویش اپنی سرزمین اور شہریوں کو دہشتگردی سے محفوظ رکھنا ہے۔ اگر افغان عبوری حکومت دہشتگرد عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کرتی ہے اور اس کے قابلِ اعتماد شواہد فراہم کرتی ہے تو دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کے عمل کو آگے بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ پرامن اور مستحکم تعلقات چاہتا ہے، تاہم دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے لیے سکیورٹی سے متعلق بنیادی خدشات کا ازالہ ضروری ہے۔

بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کے حوالے سے واضح مؤقف اختیار کیا۔

طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان کی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے دعووں کی کوئی حیثیت نہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی بیانات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’بالی ووڈ اسٹائل بیانات‘‘ کی کوئی اہمیت نہیں، اگر کسی واقعے کے 16 سے 18 ماہ بعد اس قسم کے دعوے سامنے آتے ہیں تو اس کے پیچھے موجود محرکات پر سوال اٹھتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، پاکستان اپنی قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر پوری طرح چوکس ہے اور کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان علاقائی امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم قومی سلامتی، خودمختاری اور اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔

ہفتہ وار بریفنگ کے اختتام پر طاہر حسین اندرابی نے ایک بار پھر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، اسلام آباد طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی رابطوں کو مسائل کے حل کا مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان مختلف علاقائی اور عالمی شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور موجودہ چیلنجز کے حل کے لیے مربوط سفارتی کوششیں جاری رہیں گی، خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات اور سفارت کاری کے راستے کو ترجیح دینا ہوگی۔