یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب نرسری میں انتہائی نگہداشت کے لیے نومولود بچے موجود تھے۔ واقعے کے بعد جاں بحق بچوں کے والدین اور لواحقین اسپتال پہنچے جہاں انتہائی غمناک مناظر دیکھنے میں آئے۔

آگ کب اور کیسے لگی؟

ابتدائی معلومات کے مطابق پمز اسپتال کے ایم سی ایچ وارڈ کی تیسری منزل پر واقع نرسری میں صبح تقریباً 6 بج کر 40 منٹ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد فائر الارم بجنا شروع ہوگیا اور کچھ ہی دیر میں وارڈ میں دھواں بھرنے لگا۔

حکام کی جانب سے ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے کمپریسر کا پھٹنا بتائی گئی، تاہم بعد میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ آگ کی حتمی وجہ کا تعین ابھی نہیں کیا جاسکتا اور کرائم سین کا جائزہ لیا جارہا ہے۔

طارق فضل چوہدری کے مطابق دھماکہ کسی بھی وجہ سے ہوا ہو، آکسیجن سپلائی کے باعث آگ تیزی سے پھیلنے کا امکان ہے۔

آکسیجن پائپ لائن سے آگ اور دھواں پھیلنے کا دعویٰ

پاکستان میٹرز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے فائر سیفٹی ایکسپرٹ محمد عامر فہاد نے بتایا کہ انہیں واقعے کی اطلاع ملتے ہی وہ فوری طور پر پمز اسپتال پہنچے اور موقع پر صورتحال کا جائزہ لیا۔

محمد عامر فہاد کے مطابق ابتدائی جائزے میں یہ بات سامنے آئی کہ آگ لگنے کے بعد آکسیجن پائپ لائن کے ذریعے آگ اور دھواں نرسری تک پہنچا، جہاں انتہائی نگہداشت میں نومولود بچے موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ نرسری کے بعض راستے اور ایگزٹس بند ہونے کی وجہ سے بچوں کو فوری طور پر باہر نکالنے میں مشکلات پیش آئیں، جب کہ آگ اور دھواں انتہائی تیزی سے پھیل گیا۔

فائر سیفٹی ایکسپرٹ کے مطابق موقع پر موجود ڈاکٹرز اور نرسنگ اسٹاف نے اپنی مدد سے بچوں کو بچانے کی کوشش کی، تاہم صورتحال اتنی تیزی سے بگڑی کہ انہیں بچوں کو مؤثر انداز میں ریسکیو کرنے کے لیے بہت کم وقت ملا۔

کیا فائر سیفٹی نظام ناکافی تھا؟

محمد عامر فہاد نے کہا کہ اسپتال میں فائر الارم اور ڈٹیکشن کا نظام موجود تھا، تاہم ایسے انتہائی حساس مقام، خصوصاً نوزائیدہ بچوں کی نرسری اور آئی سی یو میں صرف فائر الارم کافی نہیں ہوتا۔

انہوں نے ایسے مقامات پر آٹومیٹک فائر سپریشن سسٹم، فائر پمپس، مناسب ایگزٹس اور جدید فائر سیفٹی نظام کی موجودگی کو ضروری قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کے ہر یونٹ میں ماہانہ بنیادوں پر فائر سیفٹی مینٹیننس، ایمرجنسی ڈرلز اور تربیت یافتہ فائر فائٹنگ اسٹاف کی موجودگی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

محمد عامر فہاد نے واقعے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کو مل کر فائر سیفٹی نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرنی چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات کو روکا جاسکے۔

ریسکیو آپریشن میں کیا ہوا؟

ریسکیو حکام کے مطابق آگ لگنے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 6 فائر بریگیڈ گاڑیوں اور 4 ایمبولینسز نے حصہ لیا۔

وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے پمز پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ کنٹرول روم میں کال موصول ہونے کے چھ منٹ بعد ریسکیو ٹیمیں موقع پر موجود تھیں۔ امدادی کارروائی کے دوران سات بچوں سمیت 19 افراد کو بحفاظت ریسکیو کیا گیا۔

دوسری جانب بعض عینی شاہدین کی جانب سے ریسکیو ٹیموں کے دیر سے پہنچنے کے دعوے بھی سامنے آئے، تاہم حکام نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریسکیو رسپانس ٹائم کی بھی انکوائری کی جارہی ہے۔

14 نومولود جاں بحق، ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا

پمز کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جب کہ ایک بچے کو ریسکیو کرلیا گیا۔

جاں بحق بچوں کی میتیں مرحلہ وار ان کے والدین اور لواحقین کے حوالے کی گئیں۔ اسپتال ذرائع کے مطابق متعدد خاندانوں کو اپنے نومولود بچوں کی میتیں وصول کرنے کے لیے اسپتال پہنچنا پڑا، جہاں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔

تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹیاں قائم

واقعے کے فوری بعد وزیراعظم شہباز شریف نے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ آتشزدگی کی وجوہات، ممکنہ غفلت اور حفاظتی انتظامات کا مکمل جائزہ لیا جائے اور ذمہ داران کا تعین کیا جائے۔

ضلعی انتظامیہ نے بھی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل کی سربراہی میں 8 رکنی انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی میں کیپیٹل ایمرجنسی سروسز، پولیس، سی ڈی اے، آئیسکو اور پمز کے نمائندے شامل ہیں۔

کمیٹی کو 24 گھنٹوں میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انکوائری میں آگ لگنے کی وجوہات کے ساتھ ہسپتال کے فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو رسپانس ٹائم اور فائر فائٹنگ آپریشن کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا اعلان

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ وہ پمز انتظامیہ اور متعلقہ حکام سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اگر کسی کی غفلت یا لاپرواہی کے باعث یہ سانحہ پیش آیا تو ذمہ داروں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔

وزیر مملکت طلال چوہدری نے بھی کہا کہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد جزا اور سزا کا عمل شروع ہوگا اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

وزیراعظم کا نوٹس، حکام سے جواب طلب

وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری تحقیقات کا حکم دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ معصوم بچوں کے ساتھ پیش آنے والا یہ واقعہ ناقابلِ تلافی نقصان ہے اور ذمہ داروں کا تعین کرکے غفلت ثابت ہونے کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔

واقعے کے بعد وفاقی حکومت کی جانب سے بعض افسران کو عہدوں سے ہٹانے اور اعلیٰ سطح کی تحقیقات شروع کرنے کے اقدامات بھی کیے گئے ہیں۔

ایک سانحہ، کئی سوالات

پمز نرسری میں پیش آنے والے اس سانحے نے ملک کے سرکاری ہسپتالوں میں فائر سیفٹی، ایمرجنسی ایگزٹس، آکسیجن پائپ لائنز، خودکار فائر سپریشن سسٹمز، تربیت یافتہ عملے اور ریسکیو رسپانس سے متعلق کئی اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ آگ کی حتمی وجہ کیا تھی، دھواں اور آگ نرسری تک کس طرح پہنچی، ایمرجنسی کے راستے اور ایگزٹس کس حالت میں تھے، واقعے کے وقت کتنا طبی اور نرسنگ عملہ موجود تھا اور کیا نومولود بچوں کے لیے مطلوبہ فائر سیفٹی انتظامات مکمل تھے؟

ان سوالات کے جوابات انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہی سامنے آسکیں گے، لیکن 14 نومولود بچوں کی جانوں کا ضیاع ایک ایسا سانحہ ہے جس نے پاکستان کے ہسپتالوں میں حفاظتی نظام کے ازسرنو جائزے کی ضرورت کو ایک بار پھر اجاگر کردیا ہے۔