ابتدائی رپورٹ کے مطابق نرسری میں انکیوبیٹر کے ساتھ موجود نیبولائزر پھٹنے کے بعد آکسیجن نے فوری طور پر آگ پکڑ لی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں آگ کی شدت کم تھی تاہم آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے تیزی سے شدت اختیار کی اور پورے وارڈ میں پھیل گئی۔

رپورٹ کے مطابق آتشزدگی کے نتیجے میں نرسری کے اندر شدید دھواں پیدا ہوا، جو پائپ کے ذریعے نومولود بچوں کے سانس کے نظام میں داخل ہوا۔ بچوں کی اموات کی بڑی وجوہات میں دھویں کا سانس کے ذریعے اندر جانا، آکسیجن کی فراہمی متاثر ہونا اور جھلسنے کے باعث ہونے والے نقصانات شامل ہیں۔

اسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واقعے کے وقت نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو ریسکیو کیا جاسکا جب کہ 15 بچے جاں بحق ہوگئے۔

ابتدائی طور پر ریسکیو ذرائع کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ پمز اسپتال کی نرسری میں صبح تقریباً 6 بج کر 45 منٹ پر ایئرکنڈیشنر کا کمپریسر پھٹنے سے آگ لگی، تاہم اسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ نے اس مؤقف کی تردید کرتے ہوئے آتشزدگی کی وجہ نیبولائزر پھٹنے کو قرار دیا ہے۔

واقعے کے بعد وفاقی حکومت نے بھی سخت اقدامات کیے۔ وزیراعظم شہباز شریف کے حکم پر وفاقی سیکریٹری صحت اسلم غوری کو عہدے سے معطل کیا گیا، جب کہ سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کر رہی ہے۔

دوسری جانب سی ڈی اے فائر بریگیڈ کی رپورٹ اور پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر کے بیانات میں بھی تضاد سامنے آیا تھا۔

مزید پڑھیں: پمز اسپتال میں آتشزدگی: کب کیا ہوتا رہا، عینی شاہدین نے کیا دیکھا، دل دہلا دینے والا سانحہ چند منٹوں میں کیسے پیش آیا؟

ای ڈی پمز کا مؤقف تھا کہ اسپتال میں فائر سیفٹی کا مناسب نظام موجود تھا اور عملے نے بچوں کو بچانے کی بھرپور کوشش کی، جب کہ سی ڈی اے کی رپورٹ میں فائر سیفٹی انتظامات میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

اب اسپتال انتظامیہ کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد تحقیقاتی ٹیمیں واقعے کے مزید فنی پہلوؤں، آکسیجن سپلائی سسٹم، نیبولائزر، فائر سیفٹی انتظامات، ریسکیو آپریشن اور وارڈ میں موجود حفاظتی نظام کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہیں۔

حتمی طور پر یہ واضح ہونا ابھی باقی ہے کہ نیبولائزر کیوں پھٹا، آگ اور دھواں کس رفتار سے پھیلا، آکسیجن سپلائی کیسے متاثر ہوئی اور آیا فائر سیفٹی یا انتظامی سطح پر کسی غفلت نے نومولود بچوں کی جانوں کے ضیاع میں کردار ادا کیا یا نہیں۔