واقعے کے وقت مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر (ایم سی ایچ) کی نرسری میں 16 نومولود بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بحفاظت نکالا جا سکا۔
اس واقعے کے بعد اسلام آباد کے ایک بڑے سرکاری اسپتال پمز میں دستیاب سہولیات اور وسائل پر ایک بار پھر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
پمز وفاقی دارالحکومت میں صحت کی اہم سرکاری سہولت ہے، جہاں علاج پر سبسڈی دی جاتی ہے اور سرکاری طبی سہولیات کی طلب بھی زیادہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران پمز ہسپتال کو مجموعی طور پر 22 ارب روپے کا بجٹ فراہم کیا۔
دستاویزات کے مطابق گزشتہ مالی سال پمز ہسپتال کے لیے 6 ارب 84 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے، تاہم ہسپتال انتظامیہ نے اس کے مقابلے میں 7 ارب 51 کروڑ روپے خرچ کیے۔
یوں گزشتہ مالی سال پمز کے اخراجات مختص بجٹ سے 67 کروڑ روپے زیادہ رہے۔ ہسپتال انتظامیہ کو گزشتہ سال 66 کروڑ روپے کا اضافی بجٹ بھی فراہم کیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال پمز ہسپتال کے لیے 7 ارب 63 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے لیے ایک ارب 6 کروڑ 90 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ گزشتہ مالی سال اس مرکز کے لیے 85 کروڑ 56 لاکھ روپے مختص کیے گئے تھے۔
موجودہ مالی سال کے بجٹ میں ملازمین کی تنخواہوں کے لیے 35 کروڑ 69 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ ملازمین کے الاؤنسز کے لیے 33 کروڑ 27 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہوں کے مختص بجٹ میں افسران کی تنخواہوں کے لیے 20 کروڑ روپے جبکہ دیگر عملے کی تنخواہوں کے لیے 15 کروڑ 65 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ کیئر سینٹر کے آپریٹنگ اخراجات کے لیے 27 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں مرمت اور دیکھ بھال کے لیے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے، مشینری اور آلات کے لیے 70 لاکھ روپے جبکہ عمارت اور تعمیراتی کام کے لیے 40 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
مرکز کے لیے اسکالرشپس کی مد میں 85 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ اسٹورز، اسٹاک، پلانٹ اور مشینری کے لیے 60 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کے لیے مزید 60 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔







