اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پمز نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں، جس پر وہ متاثرہ خاندانوں سے دلی تعزیت کرتے ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی کراچی سے اسلام آباد پہنچا ہوں اور صورتحال کا جائزہ لیا۔

وزیر صحت نے کہا کہ ابتدائی طور پر بتایا گیا ہے کہ بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں اے سی بلاسٹ کے باعث آگ بھڑکی، تاہم آکسیجن کی موجودگی کے باعث آگ نے مزید شدت اختیار کی۔

انہوں نے کہا کہ وارڈ میں موجود آکسیجن لائن نے آگ کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا، تاہم واقعے کی حتمی وجہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی سامنے آئے گی۔

مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران تقریباً 26 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے اور ان کی مدد سے آگ کو ایک حد تک پھیلنے سے روکا گیا، جب کہ فائر بریگیڈ بھی موقع پر پہنچ گئی۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ نرسری میں اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا۔

وزیر صحت کا کہنا تھا کہ واقعے کی تحقیقات کے لیے متعلقہ انتظامیہ اور انفورسمنٹ ادارے موقع پر موجود ہیں، جب کہ وزارت صحت کے افسران بھی پمز میں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے احکامات دیے ہیں اور رپورٹ آنے کے بعد ذمہ داروں کے خلاف جزا و سزا کا عمل شروع ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سب لوگوں کو احتساب سے گزرنا پڑے گا کیونکہ معاملہ انسانی جانوں کا ہے۔ اگر کہیں کوتاہی ہوئی ہے تو اسے درست کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے حادثات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

پمز کی فائر سیفٹی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ اسلام آباد انتظامیہ کے ادارے ایم سی آئی کی جانب سے گزشتہ کئی برسوں سے اسپتال کو فائر سیفٹی سے متعلق نوٹسز جاری کیے جا رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ 2025 میں بھی ایک نوٹس جاری کیا گیا تھا جس میں فائر سیفٹی این او سی نہ ہونے، آلات کے مسائل اور موک ایکسرسائز نہ کرائے جانے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

وزیر صحت نے کہا کہ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ موصول ہونے والے نوٹسز پر عمل درآمد کی کوشش کی گئی، تاہم موجودہ واقعے کے تناظر میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

مصطفیٰ کمال نے پمز اسپتال پر بڑھتے ہوئے مریضوں کے دباؤ کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اسپتال ابتدا میں تقریباً 250 سے 300 افراد کی او پی ڈی کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن اب روزانہ تقریباً ساڑھے 9 ہزار افراد یہاں آتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جب پمز قائم ہوا تو اسلام آباد کی آبادی تقریباً 3 لاکھ تھی، جو اب بڑھ کر 35 لاکھ کے قریب ہوچکی ہے، جب کہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر سے بھی بڑی تعداد میں مریض یہاں آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ تقریباً ایک سال دو ماہ کے دوران اسلام آباد میں بیڈز اور اسپتالوں کی تعداد میں اضافے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، تاہم ان اقدامات کی تفصیلات بعد میں سامنے لائی جائیں گی۔

وزیر صحت نے پمز کی نئی عمارت کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر متعلقہ اداروں کی منتقلی بروقت مکمل ہوجاتی تو ممکن ہے موجودہ صورتحال مختلف ہوتی، تاہم نرسری اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں کی موجودگی اپنی جگہ ضروری تھی اور حادثے کی اصل وجہ تک پہنچنا ہی بنیادی مقصد ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران ایک شہری کی جانب سے احتجاج بھی کیا گیا، جس کے باعث کچھ دیر کے لیے بدنظمی کی صورتحال پیدا ہوئی۔ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے وزیر صحت نے کہا کہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ آئندہ دو سے تین روز میں سامنے آنے کی توقع ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابتدائی معلومات کے مطابق اے سی سے نکلنے والی چنگاری کے بعد انتہائی کم وقت میں آگ نے پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔