ایرانی دارالحکومت تہران میں افغانستان کی صورتحال پر چین، روس، پاکستان اور دیگر متعلقہ ممالک کا ایک غیر معمولی اجلاس منعقد ہوا، جس میں علاقائی سلامتی، استحکام اور افغانستان سے درپیش سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ افغان سرزمین سے ابھرنے والے دہشت گردی کے ممکنہ خطرات نہ صرف پڑوسی ممالک بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے سنگین چیلنج بن سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس غیر معمولی اجلاس میں افغانستان نے شرکت نہیں کی۔ پاکستان کی نمائندگی افغانستان کے لیے خصوصی نمائندہ محمد صادق نے کی، جب کہ کابل میں پاکستان کے سفیر عبید نظامانی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس کے علاوہ تہران میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں چین، روس اور پاکستان کے علاوہ تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے نمائندے بھی شریک تھے، جنہوں نے افغانستان کی موجودہ صورتحال اور اس کے علاقائی اثرات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں رواں سال 78 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے گئے، سیکیورٹی حکام
ذرائع کے مطابق کانفرنس کے شرکا نے اس بات پر اتفاق کیا کہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والا دہشت گردی کا مسلسل خطرہ پورے خطے کے لیے ایک مشترکہ چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون، معلومات کے تبادلے اور مربوط حکمت عملی کی ضرورت ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے افغانستان کے لیے پاکستان کے خصوصی نمائندہ محمد صادق نے کہا کہ افغانستان کے پڑوسی ممالک صرف ایک ایسے افغانستان پر ہی اعتماد کر سکتے ہیں جو دہشت گردوں کو پناہ نہ دے۔
انہوں نے زور دیا کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔






