یہ ملاقات محسن نقوی کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ ایران کا اہم دورہ مکمل کرکے وطن واپسی کے بعد ہوئی۔ پاکستان نے یہ دورہ جاری ایران امریکا تنازع کے خاتمے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے تحت کیا تھا۔
ملاقات میں پاک-امریکا تعاون کو مختلف شعبوں میں مزید وسعت دینے کے امکانات پر بھی گفتگو ہوئی، جب کہ پولیس افسران کے باہمی پروگرامز اور تربیتی اقدامات سے متعلق امور کا جائزہ لیا گیا۔
دونوں جانب سے منظم جرائم، منشیات اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے خطے میں امن و استحکام کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مثبت سفارتی کردار کو سراہا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی ایران کا دورہ مکمل کرکے وطن واپس پہنچے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق دورے کا مقصد ایران امریکا تنازع کے خاتمے، مزید کشیدگی روکنے اور خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارتی راستے تلاش کرنا تھا۔
تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپریم لیڈر کے نمائندے برائے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل محسن رضائی، ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ عباس عراقچی اور وزیر داخلہ سکندر مومنی سے ملاقاتیں کیں۔
محسن نقوی نے ایرانی صدر سے ملاقات کو 'انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز' قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں ایران امریکا تنازع، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آگے بڑھنے کے ممکنہ راستوں پر بات ہوئی۔
مزید پڑھیں: ایران سے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، دیرپا امن کی راہ ہموار ہونے کی امید ہے: محسن نقوی
انہوں نے کہا کہ ملاقات میں اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت کی بحالی کے لیے دونوں جانب سے درکار اقدامات بھی زیر بحث آئے تاکہ تنازع کا جامع حل تلاش کیا جاسکے۔
ایرانی صدر نے اپنی حکومت کا مؤقف اور خدشات پاکستانی وفد کے سامنے رکھے، جب کہ فریقین نے متعلقہ امور پر تعمیری تبادلہ خیال کیا۔
محسن نقوی نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ہونے والی پیش رفت خطے میں مزید پیش رفت اور پائیدار امن کی راہ ہموار کرے گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی حکام سے ملاقاتوں میں مزید کشیدگی روکنے، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جاری تنازع کے فوری خاتمے کے لیے اقدامات پر جامع تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات میں بھی خطے میں امن و سلامتی کے فروغ اور مذاکراتی عمل سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
پاکستانی حکام کے مطابق دونوں جانب سے تنازعات کا مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جب کہ ایرانی قیادت نے کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔







