اسلام آباد میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ہمراہ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے معزز مہمان کا پرتپاک خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان ایرانی قیادت اور عوام کے ساتھ اپنے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتوں کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج کا دن دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے معاہدے نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دیں گے بلکہ پورے خطے میں اقتصادی روابط اور ترقی کے نئے مواقع بھی پیدا کریں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حالیہ سفارتی پیش رفت اور مذاکراتی عمل کے مثبت نتائج پر انہیں خوشی ہے۔ انہوں نے اس موقع پر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کو فروغ دینے کے لیے تمام فریقین کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل کے حل کا حامی رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے مختلف سطحوں پر بھرپور کوششیں کی گئیں، جن میں عسکری اور سفارتی قیادت نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن اور استحکام کے لیے مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھی گئی۔

انہوں نے ایرانی قیادت اور عوام کے عزم و حوصلے کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ باہمی اعتماد اور مثبت سفارت کاری کے باعث مذاکراتی عمل آگے بڑھا، پاکستان اس اعتماد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مستقبل میں بھی امن کے فروغ کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان تجارت، توانائی، سرحدی تعاون، مواصلات اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں وسیع امکانات موجود ہیں۔ دونوں ممالک کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ خطے میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔

مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل و وزیرِاعظم کی قیادت میں پاکستان کا عالمی وقار بلند ہوا: خواجہ آصف

وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ ایران کے دفاعی اور میزائل پروگرام کا معاملہ مذاکرات کا حصہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر خودمختار ملک کو اپنی دفاعی ضروریات اور قومی سلامتی کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں توازن اور استحکام کے لیے تمام ممالک کے ساتھ یکساں رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچانے والے عناصر ہمیشہ موجود رہتے ہیں، تاہم ایسی قوتوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جانا چاہیے۔ پاکستان خطے میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور تمام تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کو ہی بہترین راستہ سمجھتا ہے۔

وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ ایران مستقبل میں اقتصادی ترقی کے نئے سنگ میل عبور کرے گا اور دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون مزید مضبوط ہوگا، پاکستان اور ایران کے تعلقات محض ہمسائیگی تک محدود نہیں بلکہ یہ بھائی چارے، باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ایک مضبوط شراکت داری ہے۔