کراچی میں جماعت اسلامی کے مرکز ادارہ نورِ حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے پر شدید ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً پچپن روپے تک اضافہ کر کے عوام پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے تو قیمتوں میں اضافے کا جواز سمجھ سے بالاتر ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت وفاقی بورڈ برائے محاصل کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے براہِ راست ٹیکسوں کا بوجھ عوام پر ڈال رہی ہے۔

انہوں  نے کہا کہ حکومت نے فی لیٹر پیٹرول پر عائد لیوی میں بھی تقریباً بیس روپے اضافہ کر دیا ہے، جس کا سب سے زیادہ اثر عام شہری اور موٹرسائیکل استعمال کرنے والے افراد پر پڑے گا۔ ان کے مطابق مہنگائی کے اس طوفان میں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مشکل ہو چکی ہے اور ایسے اقدامات عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ اخراجات کم کرنے کے لیے غیر ضروری سرکاری وسائل فروخت کیے جائیں، اربوں روپے مالیت کے سرکاری طیارے فروخت کر کے حاصل ہونے والی رقم عوامی ریلیف کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے پنجاب کے عوام کو ریلیف دینے کی بھی تجویز دی۔

انہوں  نے خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کے اس اقدام کو سراہا جس کے تحت عوام کو مالی مدد فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں، ایسے اقدامات موجودہ معاشی حالات میں عوام کے لیے کچھ نہ کچھ سہارا فراہم کر سکتے ہیں۔

انہوں  نے حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے ایک اور تجویز دیتے ہوئے کہا کہ وہ کراچی کے ٹاؤنز میں تیرہ سو سی سی سے بڑی سرکاری گاڑی استعمال نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق وزرا اور سرکاری افسران کو بھی محدود وسائل کے ساتھ کام کرنا چاہیے اور بڑی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔

 انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے بارے میں  کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکا اور اسرائیل کی پالیسیوں نے پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل دیا ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ایران میں تیل صاف کرنے کی تنصیبات اور عوامی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ حملہ آور یہ سمجھ رہے تھے کہ ایران بھی وینیزویلا کی طرح جلد دباؤ میں آ جائے گا۔ تاہم ان کے بقول خطے کی صورتحال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔

مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے رہبرِ اعلیٰ مقرر، ایران کو  نیا سپریم لیڈر  مل گیا

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ امریکا میں جمہوریت کے دعوے کیے جاتے ہیں لیکن عملی طور پر وہاں مفادات کی سیاست اور طاقتور حلقوں کا اثر و رسوخ غالب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی عوام خود بھی اپنے سیاسی نظام میں بااثر حلقوں کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

انہوں  نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاکستانی قوم ایران کے ساتھ کھڑی ہے اور پاکستان کو بھی اپنے مؤقف میں واضح ہونا چاہیے، ایران کے خلاف بات کرنے والے دراصل امریکا اور اسرائیل کے بیانیے کو آگے بڑھانے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کو خطے میں امن، استحکام اور خودمختاری کے اصولوں کی بنیاد پر اپنی خارجہ پالیسی مرتب کرنی چاہیے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔