اتوار کو ایرانی علما نے مجتبیٰ خامنہ ای کو باضابطہ طور پر آیت اللہ علی خامنہ ای کا جانشین قرار دیا۔ اس فیصلے کے بعد وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت ایسے وقت میں سنبھالیں گے جب ملک اپنی 47 سالہ تاریخ کے ایک بڑے بحران سے گزر رہا ہے۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی عوامی انتخاب نہیں لڑا اور نہ ہی کسی عوامی ووٹ کے ذریعے منصب حاصل کیا، تاہم انہیں طویل عرصے سے ایران کے سیاسی نظام میں ایک بااثر شخصیت سمجھا جاتا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق ان کے ایران کی طاقتور پاسدارانِ انقلاب سے قریبی روابط بھی رہے ہیں۔
حالیہ برسوں میں مجتبیٰ خامنہ ای کو اپنے والد کا ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی تقرری اس بات کا اشارہ ہو سکتی ہے کہ ایران کی قیادت میں سخت گیر دھڑوں کا اثر و رسوخ برقرار ہے، جس کے باعث جاری تنازع کے دوران فوری طور پر مذاکرات یا سفارتی حل کے امکانات کم ہو سکتے ہیں۔
یہ فیصلہ مجلسِ خبرگان نے کیا جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔ اس سے قبل مجلس کے ارکان نے کہا تھا کہ جانشین کے معاملے پر اکثریت کے ساتھ اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم اس وقت نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔ ایک رکن نے کہا تھا کہ روح اللہ خمینی اور علی خامنہ ای کے راستے کو جاری رکھا جائے گا۔
آیت اللہ علی خامنہ ای نے 37 برس تک ایران کی قیادت کی۔ وہ 1979 کے ایرانی انقلاب کے رہنما روح اللہ خمینی کے بعد اس منصب پر فائز ہوئے تھے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران پر ہونے والے حملوں میں مارے گئے تھے، جس کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے مشرقِ وسطیٰ کے کئی حصوں کو عدم استحکام کا شکار بنا دیا۔
ایران میں قیادت کی یہ تبدیلی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج نے خبردار کیا ہے کہ خامنہ ای کے کسی بھی جانشین کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ادھر امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہو گی جب تک ایران کی فوجی قیادت اور حکمران نظام کو ہٹا نہیں دیا جاتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کا نیا رہنما امریکا کی منظوری کے بغیر زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکے گا۔ ان کے مطابق اگر نئے رہنما کو ایسی حمایت حاصل نہ ہوئی تو وہ زیادہ دیر تک اقتدار برقرار نہیں رکھ پائیں گے۔
ایرانی حکام نے اس خیال کو سختی سے مسترد کر دیا ہے کہ کوئی بیرونی ملک ایران کی قیادت کے انتخاب کو متاثر کر سکتا ہے۔ ایران کی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس تجویز کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ صرف ایرانی عوام کریں گے۔







