نیٹو سربراہی اجلاس کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ ہونے والا ایم او یو ختم ہو چکا ہے اور موجودہ صورتحال میں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ مزید کسی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی بھی برقرار نہیں رہی،  اگر ایران کو جوہری صلاحیت حاصل ہوتی تو وہ اسے استعمال کرنے کی کوشش کرتا، اسی لیے امریکا کی ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے۔

امریکی صدر نے ایران پر سخت الزامات عائد کرتے ہوئے اسے خطے میں دہشت گردی کی حمایت کرنے والا بڑا ملک قرار دیا، ہ تہران کی پالیسیوں نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام پیدا کیا اور امریکی مفادات کو بھی نقصان پہنچایا۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کی پالیسی واضح ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکا جائے اور اس کی جوہری صلاحیت کو محدود کیا جائے، عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے کہ خطرناک عناصر کو جدید تباہ کن ہتھیاروں تک رسائی نہ مل سکے۔

امریکی صدر نے نیٹو اتحادی ممالک کے کردار پر بھی تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ کچھ ممالک ایران سمیت اہم عالمی معاملات پر واشنگٹن کے مؤقف کے مطابق تعاون نہیں کر رہے۔ انہوں نے کہا کہ اتحاد کے تمام رکن ممالک کو مشترکہ دفاعی ذمہ داریوں میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

ٹرمپ نے خاص طور پر اسپین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے نیٹو کا کمزور شراکت دار قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اتحادی ممالک دفاعی اور سکیورٹی معاملات میں مطلوبہ تعاون نہیں کریں گے تو امریکا اپنے تعلقات اور پالیسیوں پر نظرثانی کر سکتا ہے۔

انہوں نے اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات کے حوالے سے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا کہ بعض اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے اور مستقبل میں اس حوالے سے فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: امریکا کے ایران پر نئے حملے، قشم جزیرے اور بندرعباس میں دھماکے: ایرانی میڈیا

دوسری جانب ٹرمپ نے نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ امریکا اتحاد کو اہمیت دیتا ہے، تاہم ہر رکن ملک کو دفاعی اخراجات اور مشترکہ سلامتی کے معاملات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی۔

واضح رہے کہ  ٹرمپ کا تازہ بیان ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے، جبکہ عالمی برادری کی نظریں آئندہ سفارتی اقدامات پر مرکوز ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے امکانات باقی رہتے ہیں یا نہیں۔