عرب سفارتکار کے مطابق، ایران کی جانب سے پیش کردہ یہ پیشکش امریکا کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات میں ایک بڑی پیش رفت شمار کی جا رہی ہے۔ سفارتکار نے بتایا کہ ایران نے نہ صرف موجودہ انتہائی افزودہ یورینیئم کی سطح کو کم کرنے کی پیشکش کی ہے بلکہ مستقبل میں سات سال تک یورینیئم کی افزودگی محدود رکھنے کی بھی تجویز دی ہے۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، امریکا نے فی الحال ایران سے مکمل صفر جوہری افزودگی کا مطالبہ نہیں کیا۔ تاہم، واشنگٹن ایران کے موجودہ جوہری ذخائر کو ملک سے باہر منتقل کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ایران نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ انتہائی افزودہ یورینیئم ملک سے باہر منتقل نہیں کرے گا، البتہ اس کے ڈائلیوٹ کرنے کی پیشکش کی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کا امریکا کو دو ٹوک جواب: ’ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‘

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو کم از کم 10 سال کے لیے مؤثر طور پر معطل رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ عالمی برادری کی تشویش دور ہو سکے۔ ایران کی موجودہ پیشکش امریکی مطالبات کی تمام شرائط پوری کرنے سے قاصر ہے، جس کے باعث مذاکرات میں ابھی بھی پیچیدگیاں برقرار ہیں۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق، ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے کشیدگی میں اضافے کے بعد قریبی مستقبل میں امریکا کی جانب سے ایران پر فوجی کارروائی کے امکانات دوبارہ بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں دونوں جانب سے اعتدال پیدا نہ ہوا تو خطے میں صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے جنیوا پہنچ کر مذاکرات میں حصہ لینا شروع کر دیا ہے، اور عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایران اور امریکا کے درمیان پرانی تناؤ بھری صورتحال کو کم کرنا ہے۔