ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا نے ہمارے ارد گرد بہت بڑی فوجی موجودگی قائم کی ہے، ہمیں دھمکا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا ہے تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ 

بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جب اسرائیل نے حملہ کیا تھا ہم نے تب بھی ہتھیار نہیں ڈالے تھے، یہ لوگ ناکام تجربہ دُہرانا چاہتے ہیں تو اب بھی بہتر نتیجہ نہیں ملے گا۔ 

عباس عراقچی نے کہا ہم اب پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہیں۔ اس میں کسی کی فتح نہیں ہوگی، جنگ ہوئی تو یہ تباہ کُن ہوگی، امریکی اڈے پورے خطے میں موجود ہیں۔ 

یہ بھی پڑھیں 

اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے لیے انڈین وزیرِاعظم کا دورۂ اسرائیل، نیتن یاہو نے مودی کو ’قریبی دوست‘ قرار دے دیا

عباس عراقچی نے مزید کہا کہ اس تنازع میں پورا خطہ شامل اور صورتحال بہت خطرناک ہوجائے گی۔ 

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ تنازع کا حل بات چیت اور سفارت کاری میں ہی ہے، ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن پُرامن جوہری استعمال کا حق نہیں چھوڑیں گے۔

یاد رہے کہ انڈین وزیراعظم نریندر مودی اسرائیل کے دورے پر ہیں۔ ماہرین اسے اہم قرار دے رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق بھارتی وزیراعظم اسرائیلی ہم منصب بنیامین نیتن یاہو اور صدر آئیزک ہرزوگ سے ملاقاتیں کریں گے، جبکہ بدھ کی شام اسرائیلی پارلیمنٹ سے بھی خطاب متوقع ہے۔ مودی نے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے تعلقات ایک مضبوط اور ہمہ جہت اسٹریٹجک شراکت داری پر مبنی ہیں اور حالیہ برسوں میں ان روابط میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔

بنیامین نیتن یاہو نے اس ہفتے دورے کا اعلان کرتے ہوئے مودی کو اپنا قریبی دوست قرار دیا اور کہا کہ یہ دورہ اسرائیل کے لیے عالمی سطح پر حمایت میں اضافے کا سبب بنے گا۔ غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کے متعدد اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے، تاہم بھارت کو ایک اہم شراکت دار تصور کیا جاتا ہے۔ ایشیا میں بھارت اسرائیل کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے اور بھارتی وزارت تجارت و صنعت کے مطابق مالی سال 2025 میں باہمی تجارتی حجم 3.62 ارب ڈالر رہا۔