اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان داخلے پر اپنے شہریوں کی معاونت کو یقینی بنایا جارہا ہے، باکو سے پروازیں آپریشنل ہیں، ایران سے 64 پاکستانی آذربائیجان پہنچے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابو ظہبی میں میزائل گرنے سے ایک پاکستانی شہری شہید ہوا، عراق میں 40 ہزار پاکستانی موجود ہیں، سعودی عرب میں 25 لاکھ پاکستانی موجود ہیں، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ ایران اور خلیجی ممالک میں صورتحال ابتر ہے، ایران اور خلیجی ممالک کے فضائی روٹس بند ہیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کے افراد پھنسے ہوئے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ وزارتِ خارجہ میں کرائسس منیجمنٹ یونٹ 24 گھنٹے فعال ہے، کرائسس منیجمنٹ سیل کے نمبر ایکس ہنڈل پر موجود ہیں، عمان اور سعودی عرب کے علاوہ تمام فضائی حدود بند ہیں۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ زمینی راستے تو کھلے ہیں لیکن ان میں بہت وقت لگتا ہے، مختلف ممالک کے زمینی راستوں کو استعمال کررہے ہیں، ایران میں اس وقت 33 ہزار پاکستانی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ابوظہبی میں سفارت خانہ اور جدہ اور دبئی میں قونصل خانے فعال ہیں، ایران میں 3 سنٹرز تہران، زاہدان اور مشہد میں فعال ہیں، 300 کے قریب ایرانی بھی پاکستان آئے ہیں۔
وزیرِخارجہ نے کہا کہ اسپیشل سہولت ڈیسک کا مقصد پاکستانیوں کی مدد ہے، 792 پاکستانی ایران سے واپس آچکے ہیں، پاکستانیوں کے انخلاء میں معاونت پر آذربائیجان حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان داخلے پر اپنے شہریوں کی معاونت کو یقینی بنایا جارہا ہے، عراق کی فضائی حدود بند ہیں، زائرین کی معاونت کررہے ہیں۔ قطر میں ساڑھے تین لاکھ پاکستانی مقیم ہیں، 1400 پاکستانی قطر وزٹ ویزہ پر گئے ہیں۔
نائب وزیرِاعظم نے کہا کہ ہمارا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے، میں نے ایرانی فریق کو دفاعی معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا، ایرانی فریق نے کہا کہ سعودی عرب یقینی بنائے کہ ان کی زمین ایران کے خلاف استعمال نہ ہو۔
مزید پڑھیں: ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر تیار تھا، مثبت مذاکرات کے باوجود حملہ کیا گیا: اسحاق ڈار
انہوں نے کہا کہ نتیجہ سب کے سامنے ہے، ایران سے سب سے کم حملے سعودی عرب اور عمان پر ہوئے، پاکستان نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ اور سفارتکاروں سے رابطہ کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ خلیجی ممالک سفارتکاری کی طرف لوٹیں۔
اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ایران ہمسایہ ملک ہے، اگر صورتحال نازک ہوتی ہے تو ہم پر بھی اثر آئے گا، چین بھی چاہتا ہے کہ خطے میں امن بحال ہو، پاکستان اور چین قریبی رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ امن کے لیے پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے کاوشیں کیں، فلسطین کی صورتحال کا ایران، امریکا و اسرائیل معاملے سے تعلق نہیں۔







