ملاقات کے دوران مسیحی برادری کے وفد نے اقلیتی برادریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کے مسلسل عزم کو سراہتے ہوئے حالیہ قانون سازی، بالخصوص چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ کا خیرمقدم کیا۔ وفد نے اقلیتوں کے تحفظ، مساوی مواقع کی فراہمی اور جامع معاشرے کے فروغ کے لیے حکومتی اقدامات کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
اس موقع پر اقلیتی برادری کو درپیش مختلف مسائل اور ان کے حل سے متعلق امور پر بھی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے متعلقہ قوانین اور پالیسیوں کے ذریعے مسیحی برادری کی ضروریات کا مؤثر انداز میں احاطہ کرنے اور ان کے مسائل کے پائیدار حل کے لیے اقدامات پر غور کیا۔
ملاقات میں مختلف سفارشات کا جائزہ لیا گیا جبکہ مسیحی پرسنل لاز سمیت دیگر معاملات کے حل کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اس موقع پر کہا کہ جامع قانونی اور پالیسی اصلاحات کے فروغ کے لیے مشاورتی عمل نہایت اہمیت کا حامل ہے، حکومت تمام شہریوں کو مساوی حقوق اور یکساں مواقع کی فراہمی کیلئے پُرعزم ہے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کی ریلوے حکام کو فریٹ سروس اور میگا منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اقلیتی برادریوں کے نمائندوں سے مشاورت قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل میں تمام شہریوں کی ضروریات کو مدنظر رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بین المذاہب ہم آہنگی، مساوی شہریت اور ایک جامع معاشرے کے فروغ کے لیے عملی اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ ایسا پاکستان تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر شہری بلاامتیاز قومی ترقی میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔







