کراچی میں جماعت اسلامی کے دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے جماعت اسلامی اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور آئی پی پیز کے معاملے پر آواز اٹھانے کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کوئی جذباتی یا سیاسی بات نہیں کر رہی بلکہ ایک معقول اور عوامی مفاد کی بات کر رہی ہے۔ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں تقریباً 106 روپے ٹیکس شامل ہے، جس میں 85 روپے پٹرولیم لیوی اور تقریباً 20 روپے کسٹمز ڈیوٹی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اگر پیٹرول کی بنیادی قیمت 300 روپے فی لیٹر بھی ہو تو 85 روپے کی لیوی تقریباً 30 فیصد بنتی ہے، جب کہ عام اشیا پر سیلز ٹیکس 18 فیصد عائد کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں 60 فیصد سے زیادہ پیٹرول موٹر سائیکل سوار استعمال کرتے ہیں، جن میں بڑی تعداد روزانہ تقریباً ایک لیٹر پٹرول خریدتی ہے، اس طرح کم آمدنی والے شہریوں سے بھی روزانہ بھاری رقم ٹیکس کی صورت میں وصول کی جا رہی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے حکومت کے اس مؤقف پر سوال اٹھایا کہ پیٹرولیم ٹیکس میں کمی آئی ایم ایف کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔ یہی آئی ایم ایف حکومت کو مہنگے جہاز، بلٹ پروف گاڑیاں اور دیگر اخراجات کرنے سے نہیں روکتا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے اربوں روپے کی نئی بلٹ پروف گاڑیوں اور مہنگی مرسڈیز گاڑیوں کی خریداری کی، جب کہ سرکاری جہازوں کے ذریعے بیرون ملک دوروں اور دیگر اخراجات پر بھی بڑی رقم خرچ کی جاتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ان اخراجات کی گنجائش نکال سکتی ہے تو عوام کو پیٹرولیم لیوی میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر کا ریلیف دینے کے لیے بھی وسائل تلاش کیے جاسکتے ہیں۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ حکومت سبسڈی نہیں مانگ رہی بلکہ صرف پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیوی میں معمولی کمی سے حکومت کی ماہانہ آمدن میں کچھ کمی ضرور ہوگی، لیکن اس کے بدلے کروڑوں موٹر سائیکل سواروں، بسوں میں سفر کرنے والوں، کسانوں اور عام صارفین کو ریلیف مل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاق اور چاروں صوبوں کے سالانہ بجٹ کا مجموعی حجم تقریباً 30 ہزار ارب روپے ہے، تو حکومت کو یہ بتانا چاہیے کہ عوام کے لیے 15 سے 20 ارب روپے کی گنجائش کیوں نہیں نکالی جاسکتی۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کے ساتھ بجلی اور گیس کے بلند نرخ بھی مہنگائی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں۔ جب توانائی اور ایندھن مہنگے ہوتے ہیں تو اشیا کی پیداوار اور ایک جگہ سے دوسری جگہ ترسیل کی لاگت بھی بڑھ جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارف کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مہنگائی میں اضافے کے نتیجے میں شرح سود بڑھنے کا دباؤ بھی پیدا ہوسکتا ہے، جس سے حکومت کے پہلے سے موجود بڑے قرضے پر سود کی ادائیگی مزید بڑھ جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر شرح سود میں ایک فیصد اضافہ ہوتا ہے تو حکومت کے بھاری قرضوں کے باعث اضافی مالی بوجھ سینکڑوں ارب روپے تک پہنچ سکتا ہے۔ عوام کو پیٹرول پر ریلیف دینے کے بجائے بینکوں کو اضافی سود کی ادائیگی کو ترجیح کیوں دی جائے۔
مفتاح اسماعیل نے پیٹرولیم لیوی کے ساتھ گندم کی قیمتوں کا معاملہ بھی اٹھایا اور کہا کہ گزشتہ دو برس کے دوران کسانوں کو گندم کی مناسب قیمت نہ ملنے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ سال کسانوں کو تقریباً 60 روپے فی کلو کے حساب سے گندم فروخت کرنا پڑی، جس کے باعث انہیں نقصان ہوا، جب کہ رواں سال کم رقبے پر گندم کاشت ہونے کے بعد قیمتوں میں اضافہ ہوگیا۔ کراچی میں گندم کی قیمت 125 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے، جب کہ آٹے کی قیمت تقریباً 180 روپے فی کلو ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کسان سے کم قیمت پر گندم خریدنے کے بعد اسٹاکسٹس اور دیگر کاروباری عناصر اسے مہنگے داموں فروخت کر رہے ہیں، جس کا فائدہ کسان کے بجائے درمیان کے طبقے کو پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ پٹرولیم لیوی میں کمی کے ساتھ ساتھ زراعت، توانائی اور دیگر بنیادی شعبوں میں بھی ایسی پالیسیاں بنائی جائیں جن سے عام آدمی اور کسان کو حقیقی ریلیف مل سکے۔







