انسداد دہشت گردی عدالت کے ججز نے 26 نومبر احتجاج سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران پولیس کی درخواست پر مختلف مقدمات میں مطلوب پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔
عدالت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف 4 مزید مقدمات میں وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔ پولیس کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ تمام متعلقہ ملزمان مقدمات میں مطلوب ہیں اور ان سے تفتیش کے لیے گرفتاری ضروری ہے۔
تھانہ کوہسار میں درج مقدمہ نمبر 1032 میں 5 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے، جن میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی، شاہد خٹک، سالار کاکڑ، صدام ترین اور امجد علی شامل ہیں۔
تھانہ رمنا کے مقدمہ نمبر 974 اور تھانہ کراچی کمپنی کے مقدمہ نمبر 1193 میں 4 پی ٹی آئی رہنماؤں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ ان میں سہیل آفریدی، جنید اکبر، شاہد خٹک اور عاطف خان شامل ہیں۔
اسی طرح تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ نمبر 1228 میں بھی 9 پی ٹی آئی رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔ ان رہنماؤں میں سہیل آفریدی، جنید اکبر، شاہد خٹک، عاطف خان، مینا خان، شفیع جان، نسیم علی شاہ، اقبال آفریدی اور عبدالغنی شامل ہیں۔
دوسری جانب انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 26 نومبر احتجاج سے متعلق ایک اور مقدمے میں پی ٹی آئی کے 8 ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کردیے۔
یہ وارنٹ گرفتاری مقدمہ نمبر 714، تھانہ مارگلہ میں انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے جاری کیے۔
عدالت کی جانب سے جن رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ان میں ایم این ایز شاہد خٹک، مولانا نسیم علی شاہ، عامر ڈوگر، عاطف خان اور اقبال آفریدی شامل ہیں، جبکہ ایم پی ایز مینا خان آفریدی، ڈاکٹر امجد اور شفیع جان کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
عدالت نے تھانہ رمنا کے ایس ایچ او کو چاروں ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ مقدمات میں نامزد تمام متعلقہ ملزمان تفتیش کے لیے مطلوب ہیں، اسی لیے ان کی گرفتاری ضروری ہے۔







