سی ٹی ڈی کے مطابق دہشتگرد پشاور میں حساس اداروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے سمیت تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، تاہم خفیہ اطلاع پر بروقت کارروائی کرتے ہوئے ان کے منصوبے ناکام بنادیے گئے۔
ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق شمشتو کیمپ کے قریب دہشتگردوں کی موجودگی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی، جس دوران دہشتگردوں نے فائرنگ شروع کردی۔ جوابی کارروائی میں فائرنگ کے تبادلے کے دوران 5 دہشتگرد ہلاک ہوگئے۔
سی ٹی ڈی کا کہنا ہے کہ ہلاک دہشتگردوں میں کالعدم داعش خراسان کا ایک اہم کمانڈر بھی شامل ہے، جو دہشتگردی کے 20 مختلف مقدمات میں سی ٹی ڈی کو مطلوب تھا۔
حکام کے مطابق کارروائی کے بعد ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے اسلحہ، ہینڈ گرینیڈز اور دیسی ساختہ بم، یعنی آئی ای ڈیز بھی برآمد کی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگرد پشاور میں بڑے پیمانے پر تخریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مصروف تھے، تاہم بروقت کارروائی کے باعث ممکنہ دہشتگردی کے واقعات کو ناکام بنادیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ آپریشن بھی کیا گیا، جبکہ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات جمع کی جا رہی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں اور دیگر ممکنہ ساتھیوں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات جاری ہیں اور کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔







