اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود القاعدہ طالبان حکام کی سرپرستی سے فائدہ اٹھا رہی ہے اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے لیے تربیت اور مشاورت سمیت معاونت فراہم کرنے والے کردار میں ہے، جس کا بنیادی فائدہ ٹی ٹی پی کو پہنچ رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ٹی ٹی پی کو افغان حکام کی جانب سے زیادہ آزادی اور معاونت حاصل ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان میں اس کے حملوں میں اضافہ ہوا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2001 میں افغانستان سے القاعدہ کے انخلا کے بعد اس کے جنگجو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منتقل ہوئے، جہاں ٹی ٹی پی نے انہیں پناہ فراہم کی۔ 2021 میں طالبان کی افغانستان میں واپسی کے بعد دونوں تنظیموں کے روابط مزید مضبوط ہوئے۔

اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ نے ٹی ٹی پی کی حکمت عملی، تربیت اور پروپیگنڈا صلاحیتوں میں اضافے کے لیے معاونت فراہم کی۔ رواں سال القاعدہ کے میڈیا ونگ کی جانب سے پاکستان کے خلاف ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کی کھلے عام حمایت بھی سامنے آئی۔

ماہرین کے مطابق القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے مقاصد اور حکمت عملی میں فرق موجود ہے، تاہم نظریاتی مماثلت کے باعث دونوں کے درمیان میڈیا، پروپیگنڈا، تربیت اور لاجسٹک معاونت کے شعبوں میں تعاون برقرار ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ القاعدہ کی معاونت صرف ٹی ٹی پی تک محدود نہیں، بلکہ افغانستان میں موجود دیگر عسکریت پسند گروہوں تک بھی پھیل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ برصغیر بھی مختلف گروہوں کو تربیت اور حکمت عملی سے متعلق معاونت فراہم کرتی ہے۔

اقوام متحدہ کی گزشتہ رپورٹ میں بھی القاعدہ کو افغانستان میں دیگر گروہوں کے لیے ’سروس پرووائیڈر‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تنظیم انہیں تربیت، مشاورت اور لاجسٹک معاونت فراہم کرتی ہے، جبکہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں کارروائیوں کے لیے جگہ اور دیگر معاونت حاصل رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے اثرات سرحد پار پاکستان تک پہنچ رہے ہیں، جس سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہیں۔