حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ دھرنے دینا کوئی معمولی کام نہیں، لوگ اپنے حق کے لیے گھروں سے نکلے ہیں۔ ہر طرف سے آواز آرہی ہے کہ اب انصاف چاہیے اور پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے عوام پر پیٹرول کی قیمتوں کا بم گرا رکھا ہے اور عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے اور جنگ کا بہانہ بنایا جاتا ہے، تاہم حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور دیگر ٹیکس بھی وصول کر رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ حکومت نے مڈل کلاس آدمی کو ختم کردیا ہے، جاگیرداروں سے ٹیکس نہیں لیا جاتا جب کہ مڈل کلاس سے ٹیکس اور لیوی وصول کی جاتی ہے۔ حکمران اپنی شاہ خرچیاں ختم کیوں نہیں کرتے؟

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت عالمی مارکیٹ کا بہانہ بنا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا رہی ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ جہاں سے تیل لیتے ہیں وہ متحدہ عرب امارات کا تیل ہے اور اس کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیمتیں اپنی جگہ، لیکن سوال یہ ہے کہ لیوی کے نام پر بھتہ کیوں لیا جا رہا ہے؟ جماعت اسلامی نے لیوی کے معاملے کا کچا چٹھا حکومت اور میڈیا کے سامنے کھول دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر لیوی وصول نہیں کریں گے تو حکومت کیسے چلائیں گے، لیکن حکمرانوں نے عوام کو تباہ اور بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ طلبہ، کسان، مزدور اور اساتذہ سمیت کوئی بھی پٹرولیم لیوی کے اثرات سے محفوظ نہیں۔

جماعت اسلامی کے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومتی کمیٹی کے ساتھ دو دور کے مذاکرات ہوچکے ہیں، تاہم حکومت اپنے محکموں سے بات کرنے کے لیے بار بار وقت مانگ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس عملاً جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم کی تجاویز کا کوئی جواب نہیں۔ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اسلام آباد مارچ کرنا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت پہلے ہی 26 دن کا وقت لے چکی ہے اور اب مزید وقت نہیں دیا جاسکتا۔ حکومت نے پیٹرولیم ڈیپارٹمنٹ اور آئی پی پیز سے بات کرنے کے لیے مزید مہلت مانگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا رویہ درست نہ ہوا تو اسلام آباد لانگ مارچ کی کال دی جائے گی۔ ملک بھر سے جماعت اسلامی کے کارکن نکلیں گے اور حکمرانوں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی پر مجبور کریں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ ایک زمانے میں پیٹرول کی قیمتیں کئی سال تک منجمد رہتی تھیں۔ 1961 کے قانون کے تحت عوام سے لیوی وصول کی جارہی ہے، جب کہ 2022 میں حکومت نے لیوی کا مقصد ہی ختم کردیا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2025 میں حکومت نے لیوی اپنی مرضی سے وصول کرنے کی اجازت دے کر مجرمانہ اقدام کیا۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان میں 40 فیصد سے زائد لوگ خطِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور حکومت کو عوام پر مزید بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیاں کم کرنی چاہئیں۔

امیر جماعت اسلامی نے پنجاب حکومت اور وزیراعلیٰ مریم نواز کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مریم نواز نے پنجاب کے 11 ہزار اسکولوں کو فروخت کردیا ہے اور دعویٰ کیا کہ پنجاب میں نویں جماعت کے 52 فیصد طلبہ فیل ہوگئے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ نواز شریف کے نام سے چند اسکول بنا کر ڈرامے بازی کی جارہی ہے، جب کہ ماضی میں سائنسدان، ماہرین اور ملک کے اعلیٰ افراد سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرتے تھے۔ آج معیاری تعلیم کے لیے لوگ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں نہیں پڑھاتے۔

کسانوں کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کا بیڑہ غرق کردیا گیا ہے اور جعلی اسکیمیں متعارف کرائی جاتی رہی ہیں۔ یوریا دیگر ممالک کے مقابلے میں کئی گنا مہنگی فروخت کی جارہی ہے جب کہ پنجاب میں کپاس کی فصل آدھی سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ملک کی شرح نمو 6.5 فیصد سے کم ہوکر 0.5 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی کی آئی پی پیز کے خلاف تحریک کی طرح پیٹرولیم لیوی کے خلاف تحریک بھی کامیاب ہے اور جماعت اسلامی نے اپنے بیانیے میں حکمرانوں کو شکست دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی مخالفت کرنے والوں کے پاس بھی کوئی دلیل موجود نہیں۔ 26 دن کے دھرنوں نے پاکستان کی سیاست کے رنگ بدل دیے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ پرعزم رہیں، کیونکہ راستے نکلتے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے عوام کو ریلیف نہ دیا تو ملک بھر میں جاری دھرنے اسلام آباد کی جانب مارچ میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی کی جدوجہد کا مقصد عوام کو پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے بوجھ سے ریلیف دلانا ہے۔