عدالت نے یہ فیصلہ اس وقت سنایا جب نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے بلال غوری کا مزید 6 روزہ جسمانی ریمانڈ طلب کیا تھا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ ملک امان کی عدالت نے تفتیشی ادارے کی درخواست مکمل طور پر منظور نہیں کی۔

بلال غوری کو این سی سی آئی اے نے 6 ستمبر کو گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف پیکا ایکٹ کی دفعہ 20 اور دفعہ 26 اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق مقدمے کا بنیادی نکتہ نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی سے متعلق بلال غوری کا وی لاگ اور سوشل میڈیا مواد ہے۔ تفتیشی ادارے کا الزام ہے کہ یہ مواد غلط، گمراہ کن اور آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق بنیاد کے بغیر نشر کیا گیا، جو عوام کو گمراہ کرنے اور ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر کرنے کے مترادف قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ساتھ ستمبر کو بلال غوری کو پہلی بار عدالت میں پیش کیا گیا تھا، جہاں این سی سی آئی اے نے 10 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی۔ عدالت نے یہ درخواست بھی مکمل طور پر منظور نہیں کی اور صرف 3 روزہ جسمانی ریمانڈ دیا۔

تفتیشی ادارے کا اس وقت مؤقف تھا کہ بلال غوری کے یوٹیوب اور ایکس اکاؤنٹس سے متعلق ریکوری، رسائی اور دیگر تفتیشی کارروائی کے لیے مزید وقت درکار ہے۔ اسی پیشی کے دوران بلال غوری نے عدالت میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا تھا کہ ان کی گفتگو فیصل نصیر کے خلاف نہیں بلکہ نیکٹا اور ادارہ جاتی نظام کے بارے میں تھی۔

تین روزہ ریمانڈ مکمل ہونے کے بعد بلال غوری کو 10 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں این سی سی آئی اے نے مزید 6 روزہ جسمانی ریمانڈ طلب کیا۔

بلال غوری کے وکیل عمران شفیق نے مزید ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ

این سی سی آئی اے پہلے ہی موبائل فون اور لیپ ٹاپ قبضے میں لے چکی ہے۔ تفتیشی ادارے کو ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک بھی رسائی حاصل ہے۔ اگر مطلوبہ برآمدگیاں ہو چکی ہیں تو مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت کیا ہے؟

استغاثہ کو پہلے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ بلال غوری کے بیان میں غلطی یا جھوٹ کہاں ہے۔ بلال غوری نے خود بھی عدالت کو بتایا کہ ان کے اکاؤنٹس، موبائل فون اور لیپ ٹاپ پہلے ہی تفتیشی ادارے کے پاس ہیں۔

اس کے جواب میں تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ٹو اسٹیپ ویری فکیشن فعال ہے، جس کی وجہ سے تفتیش کاروں کو لاگ اِن کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

مزید پڑھیں: صحافی بلال غوری کا تین روزہ جسمانی ریمانڈ منظور: ’عدلیہ تو آزاد ہے لیکن وہاں تو چین آف کمانڈ ہے۔‘

فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے این سی سی آئی اے کی 6 روزہ ریمانڈ کی درخواست مکمل طور پر منظور نہیں کی، بلکہ بلال غوری کا جسمانی ریمانڈ مزید 2 دن کے لیے بڑھایا۔ انہیں اب 12 ستمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

اس کیس میں دو مؤقف سامنے آ رہے ہیں۔ این سی سی آئی اے کا کہنا ہے کہ بلال غوری نے نیکٹا کے نیشنل کوآرڈینیٹر کی تعیناتی کے بارے میں ایسا مواد نشر کیا جو ادارے کے نزدیک غلط اور گمراہ کن معلومات پر مبنی تھا، اور ایف آئی آر کے مطابق یہ مواد عوام کو گمراہ کرنے اور ریاستی اداروں پر اعتماد متاثر کرنے کے مترادف تھا۔

دوسری جانب بلال غوری اور ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ متعلقہ وی لاگ پہلے ہی عوامی سطح پر موجود ہے، اور تفتیشی ادارہ ان کے آلات بھی قبضے میں لے چکا ہے، اس لیے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

12 ستمبر کی آئندہ سماعت اس کیس میں اہم ہوگی، جس میں یہ طے ہوگا کہ آیا این سی سی آئی اے مزید جسمانی ریمانڈ حاصل کرتی ہے، بلال غوری کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجا جاتا ہے، یا عدالت انہیں کوئی ریلیف دیتی ہے۔

کیس کا ایک اور اہم پہلو پیکا ایکٹ کی دفعہ 26 اے کا اطلاق ہے، جو مبینہ طور پر غلط یا جعلی معلومات کی ترسیل سے متعلق الزام میں شامل کی گئی ہے۔ کیس آگے بڑھنے کے ساتھ یہ قانونی بحث بھی زیرِ غور آئے گی کہ آیا بلال غوری کا مواد واقعی قانون میں بیان کردہ جرم کے دائرے میں آتا ہے یا نہیں۔