میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نذیر احمد بٹ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کو زیادہ رسائی دینے کے خطرات ہیں۔ جب آپ آئی ایم ایف کو رسائی دیتے ہیں تو وہ آپ کے بیڈروم تک داخل ہو جاتے ہیں۔ جب تک کوئی ملک آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل رہتا ہے، اسے کلین چٹ نہیں دی جاتی۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان ہر سال اپنی جی ڈی پی کا 5 سے 6.5 فیصد، یعنی تقریباً 20 سے 26 ارب ڈالر، کرپشن کی نذر کر دیتا ہے، تاہم انہوں نے اس ڈیٹا کو غیر درست قرار دیا۔
چیئرمین نیب نے الزام عائد کیا کہ آئی ایم ایف ان ممالک کی درجہ بندی کم کرتا ہے جن کے امریکہ کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں ہوتے، جیسے ایران اور شمالی کوریا۔
انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا کوئی ضمانت دے سکتا ہے کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل واقعی غیر جانبدار ادارہ ہے؟
اس موقع پر انہوں نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ انٹرپول نے بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض اور ان کے بیٹے علی ریاض کے خلاف ریڈ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ نیب متحدہ عرب امارات سے ان کی حوالگی کے لیے رابطہ کرے گا۔
دوسری جانب نیب کے ڈائریکٹر جنرل آپریشنز امجد اولکھ نے 2026 کی پہلی سہ ماہی کی کارکردگی رپورٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے اس عرصے میں 2,962 ارب روپے کی ریکوری کی، جو 2025 کی اسی مدت کے 91 ارب روپے کے مقابلے میں 33 گنا زیادہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران 8,563 نئی شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 8,214 نمٹا دی گئیں جب کہ 471 پر کام جاری ہے۔ اسی طرح 755 انکوائریز زیرِ کارروائی ہیں اور 187 تحقیقات ابھی جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: اسکلز کے بغیر ڈگری بے معنی، نوجوانوں کو جدید سکلزسے آراستہ کرنا ہوگا: وزیرِ تعلیم پنجاب
ڈی جی نیب نے کہا کہ اہم زیرِ سماعت مقدمات میں لاہور کی ایڈن ہاؤسنگ سوسائٹی کیس (16 ارب روپے)، بحریہ آئیکون کراچی کیس (76.12 ارب روپے)، بحریہ گالف سٹی اسلام آباد کیس (152 ارب روپے) اور ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیس (708 ارب روپے) شامل ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی اور دیگر کے خلاف تخت پڑی کیس میں 335 ارب روپے کی مبینہ کرپشن، جب کہ ایلیکسیر گروپ سے متعلق آصف جاوید کیس میں 11 ارب روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیب حکام کے مطابق دیگر اہم تحقیقات میں مونس الٰہی، چولستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کیس (555 ارب روپے) اور لاہور کینٹ میں زمین سے متعلق امجد عزیز کیس (150 ارب روپے) شامل ہیں۔
نیب حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ بدعنوانی کے خاتمے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز کر رہا ہے اور بڑے مالیاتی اسکینڈلز پر خاص توجہ دی جا رہی ہے۔







