ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کو موجودہ لیویز میں رد و بدل کے ذریعے متوازن کیا جائے تاکہ عوام پر اضافی مالی بوجھ نہ پڑے۔ اس وقت حکومت پٹرول پر 100 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 55 روپے فی لیٹر لیوی وصول کر رہی ہے، جو آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط کا حصہ ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت پہلے ہی عوام کو ریلیف دینے کے لیے 129 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کر چکی ہے، جس کے لیے ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دیگر مدات سے وسائل حاصل کیے گئے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ایک سینیئر سرکاری عہدیدار کے مطابق وزیراعظم نے واضح ہدایت دی ہے کہ ہر ممکن اقدام کیا جائے تاکہ عالمی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام تک منتقل نہ ہو۔ اس سلسلے میں وزارتِ خزانہ کو آئی ایم ایف کے ساتھ لیوی کے ڈھانچے میں ممکنہ تبدیلیوں سے متعلق تفصیلی تجاویز تیار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔







