لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ ایسی ترامیم کی کوئی قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں جو آئین کی روح کے خلاف ہوں،ان ترامیم کے ذریعے حاصل کیے جانے والے کسی بھی استثنا کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
امیر جماعت اسلامی نے عدلیہ کی موجودہ صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت عدلیہ دباؤ کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ “جس عدلیہ کو آزاد اور خودمختار ہونا چاہیے تھا، اسے کمزور کرنے اور کنٹرول کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے
انہوں نے حالیہ ججز کے تبادلوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عدلیہ کی آزادی پر براہ راست حملہ قرار دیااور کہا کہ ایسے اقدامات سے انصاف کے نظام پر عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جب یہ آئینی ترامیم کی جا رہی تھیں تو اس وقت تقریباً تمام سیاسی جماعتیں اس عمل میں شریک تھیں اور کسی نے کھل کر مخالفت نہیں کی، تاہم جماعت اسلامی نے ابتدا ہی سے ان ترامیم کو مسترد کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کمزور ہو چکی ہے اور اگر کہیں جمہوری اقدار باقی ہیں تو وہ جماعت اسلامی اور وکلا تنظیموں میں نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وکلا کی طاقت کو بھی محدود کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جو کہ تشویشناک ہے۔
سیاسی جماعتوں کے طرز عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئےحافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اقتدار کے حصول کے لیے وقتی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ اصولی سیاست کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ “حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں، لیکن وقتی فائدے کے لیے آئین کو نقصان پہنچانا ملک کے مفاد میں نہیں
مزید پڑھیں: جماعت اسلامی کا ملک گیر احتجاج : ’عوام پر ٹیکسوں کا طوفان بند کرو‘
وکلا برادری اور جمہوری قوتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ متحد ہو کر آئین کی بالادستی اور عدلیہ کی آزادی کے لیے کردار ادا کریں۔ انہوں نے 2007 کی وکلا تحریک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت وکلا اور سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئیں، تاہم بعد ازاں اس تحریک کے نتائج توقعات کے مطابق نہیں نکلے۔
اخر میں حافظ نعیم الرحمان نےکہا کہ ملک کو درپیش آئینی اور جمہوری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو سنجیدگی سے کردار ادا کرنا ہوگا، بصورت دیگر نظام مزید کمزور ہو سکتا ہے۔







