آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفر آباد ڈویژن کی 9 اور مہاجرین کی 12 نشستوں کے لیے پولنگ کا عمل صبح 8 بجے شروع ہوا، جو شام 5 بجے تک جاری رہنا تھا، تاہم الیکشن کمیشن نے پولنگ کا وقت ایک گھنٹہ بڑھا دیا۔
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے مطابق مظفر آباد ڈویژن میں پولنگ شام 6 بجے تک جاری رہی۔ مظفر آباد ڈویژن کے ووٹرز نے شام 6 بجے تک اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ ووٹرز کی زیادہ تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پولنگ کے وقت میں ایک گھنٹے کی توسیع کی گئی۔
ایل اے 27 کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات ملتوی
عملہ نہ پہنچنے پر مظفر آباد ڈویژن کے حلقہ ایل اے 27 کے تمام 196 پولنگ اسٹیشنوں پر انتخابات ملتوی کر دیے گئے۔ موسم کی خرابی اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث پولنگ کا سامان نہیں پہنچ سکا۔
پولیس کے مطابق وادی نیلم، آزاد کشمیر میں ووٹ ڈال کر واپس آنے والی ایک گاڑی بجلی کی تار سے ٹکرا گئی، جس کے نتیجے میں کرنٹ لگنے سے 8 افراد زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں 7 خواتین اور ایک ڈرائیور شامل ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ میونسپل کمیٹی اٹھمقام کے وارڈ لالہ میں پیش آیا۔ تمام زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال اٹھمقام منتقل کر دیا گیا۔
وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور نے صدر آزاد کشمیر چوہدری لطیف اکبر پر حملے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ چیف سیکرٹری آزاد کشمیر اور آئی جی پولیس ذمہ داروں کو کیفرِ کردار تک پہنچائیں۔
فیصل ممتاز راٹھور نے آزاد کشمیر میں سکیورٹی کی ناقص صورتحال پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ن لیگی شرپسند عناصر نے چوہدری لطیف اکبر پر حملہ کر کے ناقابلِ برداشت حرکت کی۔
آزاد کشمیر کے بعض حلقوں میں پولنگ کا عمل تاخیر سے شروع ہوا، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے مسلم لیگ (ن) پر دھاندلی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے الیکشن سیل پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے چیف الیکشن کمشنر کو خط بھی لکھ دیا ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی ندیم افضل چن نے آزاد کشمیر میں چوہدری لطیف اکبر پر حملے کا الزام عائد کیا، جبکہ شیری رحمان نے مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کی جانب سے چوہدری لطیف اکبر پر مبینہ قاتلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے اپنے بیان میں کہا کہ آزاد کشمیر انتخابات کے دوسرے مرحلے کا پرامن انعقاد جاری ہے، "رونا دھونا پارٹی" کا وجود کہیں نظر نہیں آ رہا، دھاندلی کا رونا رونے والے پھر چیختے چلاتے رہیں گے۔
کسی کے دباؤ میں کام نہیں کریں گے: چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر
دوسری جانب چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر جسٹس (ر) غلام مصطفیٰ مغل نے مظفر آباد میں پولنگ اسٹیشن کا دورہ کیا۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ کی بحالی کے لیے خط لکھا ہے، آج پتا چل جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ کسی کے دباؤ میں کام نہیں کریں گے، ہر بات ہر کسی کی مانی نہیں جاتی، قانون کے مطابق کام کریں گے۔
مظفر آباد ڈویژن میں ایک ہزار 483 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے، جبکہ جموں اور ویلی کی 6، 6 نشستوں پر ملک کے مختلف شہروں میں مقیم کشمیری ووٹرز نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
ادھر جموں 1 اور کشمیر ویلی 1 کی نشست پر کراچی میں بھی پولنگ ہوئی۔ دونوں نشستوں کے لیے 34 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے۔ کراچی میں جموں 1 کی نشست پر 698 رجسٹرڈ ووٹرز جبکہ کشمیر ویلی 1 کی نشست پر 4 ہزار 200 رجسٹرڈ ووٹرز تھے۔
مزید برآں راولپنڈی اور اسلام آباد میں بھی مہاجرین کی 3 نشستوں پر پولنگ ہوئی۔ ان نشستوں میں ایل اے 43 ویلی 4، ایل اے 44 ویلی 5 اور ایل اے 39 جموں 6 شامل ہیں۔
ایل اے 43 ویلی 4 میں مجموعی طور پر 12 امیدوار، ایل اے 44 ویلی 5 میں 8 امیدوار جبکہ ایل اے 39 جموں 6 میں 14 امیدوار میدان میں تھے۔
کون کون امیدوار مدمقابل تھے؟
ویلی 4 سے پیپلز پارٹی کے جاوید بٹ، مسلم لیگ (ن) کے محمد یاسین اور آئی پی پی کے حمزہ مجید مدمقابل تھے۔
ویلی 5 میں مسلم لیگ (ن) کے احمد رضا قادری، پیپلز پارٹی کے محمد راشد اسلام، جماعت اسلامی کے حنیف منظور ڈار اور مسلم کانفرنس کی مہرالنسا مدمقابل تھیں۔
جموں 6 میں پیپلز پارٹی کے چوہدری فخر زمان، مسلم لیگ (ن) کے راجہ محمد صدیق اور آئی پی پی کے محمد طاہر کھوکھر بھی مدمقابل تھے۔
ایل اے 43 ویلی 4 میں ایک ہزار 600 سے زائد خواتین ووٹرز سمیت رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 ہزار 346 تھی، جبکہ ایل اے 44 ویلی 5 میں 3 ہزار 294 خواتین ووٹرز سمیت مجموعی رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 6 ہزار 996 تھی۔
ایل اے 39 جموں 6 میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد تقریباً 37 ہزار تھی۔ اس حلقے میں چکوال، جہلم، اٹک، پشاور اور تلہ گنگ بھی شامل ہیں۔
ڈسٹرکٹ الیکشن کمیشن نے ایل اے 43 ویلی 4 میں 10، ایل اے 44 ویلی 5 میں 27 اور ایل اے 39 جموں 6 میں 155 پولنگ اسٹیشن قائم کیے تھے۔
خیال رہے کہ مظفر آباد ڈویژن کے تین اضلاع میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 8 لاکھ 90 ہزار 621 تھی، جن میں 4 لاکھ 27 ہزار 955 مرد اور 4 لاکھ 62 ہزار 666 خواتین ووٹرز شامل ہیں۔






