وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ آزاد کشمیر اور وفاقی حکومت نے احتجاج کرنے والے عناصر کو اپنا مؤقف سامنے رکھنے کے لیے مناسب وقت دیا، تاہم ان کی جانب سے انتخابات کے عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے شہری اپنے ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندوں کا انتخاب کر رہے ہیں اور انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ شروع ہوگا، نئی حکومت عوام کے مینڈیٹ کی بنیاد پر قائم ہوگی اور اسے ریاست کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے احتجاج کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ احتجاج ختم کرکے سیاسی عمل کا حصہ بنیں، خالی ہونے والی نشستوں پر مستقبل میں ضمنی انتخابات ہوسکتے ہیں، جن کے ذریعے ان نشستوں کی نمائندگی مکمل کی جاسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت جائز مطالبات کو دستیاب وسائل اور آئینی و قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

وزیراعظم کے مشیر نے خبردار کیا کہ قانون کو ہاتھ میں لینے، تشدد کا راستہ اختیار کرنے یا عوام کو اشتعال دلانے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے امن و امان کو نقصان پہنچانے یا انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنے کی کسی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

رانا ثنا اللہ نے انتخابات کے دوران بعض مقامات پر پیش آنے والے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کچھ جگہوں پر پولنگ کے عمل میں خلل ڈالنے اور ووٹرز سے شناختی دستاویزات چھیننے کی کوشش کی گئی۔

ان کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں اور کیو آر ایف کے اہلکاروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا۔

انہوں نے بتایا کہ حلقہ نیلی کے 3 پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ رکوانے کی کوشش کی گئی، تاہم وہاں موجود سیاسی کارکنوں کی مزاحمت کے بعد صورتحال کو سنبھال لیا گیا۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق دیرپورٹ کے علاقے گاڑھا کوٹ میں ایک اہم پولنگ اسٹیشن کے قریب فائرنگ کا واقعہ بھی پیش آیا، تاہم مجموعی طور پر انتخابی عمل جاری رہا۔

انہوں نے کہا کہ چند مقامات پر معمولی نوعیت کے واقعات رپورٹ ہوئے لیکن کوئی ایسا بڑا واقعہ پیش نہیں آیا جس سے پورے انتخابی عمل کو متاثر ہونے کا خدشہ ہو۔

وزیراعظم کے مشیر نے ناڑہ کوٹ میں ایک بزرگ شہری کے انتقال کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق بزرگ شہری کی موت دل کا دورہ پڑنے کے باعث ہوئی اور اس واقعے کو کسی انتخابی تشدد سے جوڑنا درست نہیں۔

انہوں نے بتایا کہ امن و امان برقرار رکھنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں اور اضافی سکیورٹی اہلکار بھی آزاد کشمیر میں موجود ہیں۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ تیسرے مرحلے کی پولنگ مکمل ہونے کے بعد آزاد کشمیر کے عام انتخابات کا انتخابی مرحلہ مکمل ہوجائے گا، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل کا عمل شروع ہوگا۔

رانا ثنا اللہ نے دعویٰ کیا کہ اب تک سامنے آنے والے نتائج اور سیاسی صورتحال کے مطابق مسلم لیگ ن آزاد کشمیر میں اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت قائم ہونے کی صورت میں آزاد کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دی جائے گی۔

دوسری جانب وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے بھی آزاد کشمیر کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عوام نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈال کر انتخابی عمل پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

امیر مقام نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عوام نے اپنے ووٹ کے ذریعے فیصلہ دے دیا ہے اور سیاسی جماعتوں کو اس مینڈیٹ کا احترام کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے قبل بعض امیدواروں کی جانب سے انتظامیہ، پولیس، ڈپٹی کمشنرز اور دیگر سرکاری افسران پر جانبداری کے الزامات عائد کیے گئے، تاہم ان اعتراضات کے باوجود عوام بڑی تعداد میں پولنگ اسٹیشنز پہنچے اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کی قیادت اور امیدواروں کو عوام کی حمایت حاصل ہوئی ہے اور حکومت بننے کی صورت میں عوام سے کیے گئے وعدوں کو عملی شکل دینے کی کوشش کی جائے گی۔

امیر مقام نے آزاد کشمیر میں مرحلہ وار انتخابات کرانے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ حالات اور سکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔

ان کے مطابق اگر کسی سیاسی جماعت کو اس طریقہ کار پر اعتراض تھا تو اسے فیصلہ ہونے کے وقت ہی اپنا مؤقف واضح کرنا چاہیے تھا۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں بھی آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران دیگر علاقوں سے سکیورٹی اہلکار تعینات کیے جاتے رہے ہیں، اس لیے موجودہ سکیورٹی انتظامات پر اعتراض کی کوئی خاص بنیاد نہیں۔

امیر مقام نے دعویٰ کیا کہ انتخابی نتائج سے مسلم لیگ ن کی عوامی مقبولیت واضح ہوگئی ہے اور اب سیاسی جماعتوں کو انتخابی نتائج اور عوامی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات کا تیسرا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد حتمی نتائج سامنے آئیں گے، جس کے بعد نئی حکومت کی تشکیل اور آئندہ سیاسی حکمت عملی کے حوالے سے صورتحال مزید واضح ہوجائے گی۔