آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے میرپور، کوٹلی اور بھمبر کے 13 حلقوں میں پیر کو پولنگ ہوئی۔ شام 5 بجے ووٹنگ کا مقررہ وقت ختم ہونے کے بعد قطار میں موجود ووٹروں کو ووٹ ڈالنے کے لیے ایک گھنٹے کی اضافی مہلت دی گئی، جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوئی۔
اب تک موصول ہونے والے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 10 حلقوں کے نتائج مکمل ہو چکے ہیں، جن میں مسلم لیگ (ن) 7 جب کہ پاکستان پیپلز پارٹی 3 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہے۔
غیر سرکاری نتائج کے مطابق حلقہ ایل اے-1 میرپور 1، ایل اے-4 میرپور 4، ایل اے-7 بھمبر 3، ایل اے-9 کوٹلی 2، ایل اے-11 کوٹلی 4، ایل اے-12 کوٹلی 5 اور ایل اے-13 کوٹلی 6 سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب قرار پائے ہیں، جب کہ ایل اے-2 میرپور 2، ایل اے-3 میرپور 3 اور ایل اے-8 کوٹلی 1 سے پاکستان پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی ہے۔
دوسری جانب پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے نتائج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ میرپور کے عوام نے مسلم لیگ (ن) کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ کشمیری عوام نے یہ پیغام دیا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر کی ترقی مسلم لیگ (ن) سے وابستہ ہے، 2 اگست کو بھی عوام شیر پر مہر لگا کر اپنے فیصلے کی توثیق کریں گے۔
ادھر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے بعض پولنگ اسٹیشنز پر انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے متاثرہ پولنگ اسٹیشنز پر فوج کی نگرانی میں دوبارہ پولنگ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ متعدد پولنگ اسٹیشنز سے پیپلز پارٹی کے پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکالا گیا، جب کہ مسلح افراد کی جانب سے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے اور مبینہ جعلی ووٹنگ کی شکایات بھی سامنے آئیں۔
مزید پڑھیں؛ 7 اگست کو ملک کی تمام اہم شاہراہیں اور سڑکیں بند کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
راجہ پرویز اشرف نے آزاد کشمیر الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ ایل اے-12 کے متنازع پولنگ اسٹیشنز کے نتائج فوری طور پر روکے جائیں، تحقیقات مکمل ہونے کے بعد وہاں دوبارہ پولنگ کرائی جائے اور اس سے قبل حلقے کا حتمی نتیجہ جاری نہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات ہر امیدوار اور ووٹر کا بنیادی جمہوری حق ہیں اور عوامی مینڈیٹ پر اثرانداز ہونے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
خیال رہے کہ یہ تمام نتائج غیر حتمی اور غیر سرکاری ہیں، جب کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی پاکستان میٹرز تاحال آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرسکا۔







