اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 20 نشستوں پر پولنگ ہوئی، جن میں مسلم لیگ (ن) نے 13 نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جبکہ مظفرآباد ڈویژن کی 9 میں سے 7 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوا، ایل اے 27 اور ایل اے 28 کے بعض پولنگ اسٹیشنز پر پولنگ ملتوی ہونے کے باعث ان حلقوں میں ووٹنگ پیر کے روز مکمل ہوگی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق مظفرآباد کی سات نشستوں میں سے چار پر مسلم لیگ (ن) جبکہ تین پر پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، تاہم انہیں یقین ہے کہ باقی دو نشستیں بھی مسلم لیگ (ن) کے حصے میں آئیں گی، جس کے بعد پارٹی مزید مضبوط پوزیشن میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں میں سے 10 پر مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں 45 رکنی آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں پارٹی حکومت بنانے کی واضح پوزیشن میں آ چکی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتخابات کے دوران ووٹرز کو آزادانہ طور پر اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملا اور مجموعی طور پر انتخابی عمل پرامن اور شفاف رہا، پاکستان پیپلز پارٹی نے نتائج سے قبل اور بعد میں دھاندلی کا تاثر دینے کی کوشش کی، تاہم عوام نے اس بیانیے کو قبول نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی سیاسی جماعت کو انتخابی نتائج پر اعتراض ہے تو اس کے لیے آئینی اور قانونی فورم الیکشن کمیشن موجود ہے، اگر کسی حلقے میں بے ضابطگی ثابت ہوتی ہے تو الیکشن کمیشن دوبارہ گنتی یا ری پولنگ کا حکم دے سکتا ہے، اس لیے الزامات میڈیا میں لگانے کے بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ متعدد حلقوں میں مقابلہ انتہائی سخت رہا اور کئی نشستوں پر کامیابی کا فرق بہت کم ووٹوں کا تھا، لیکن اس کے باوجود مجموعی انتخابی عمل شفاف انداز میں مکمل ہوا اور ووٹرز نے بلا خوف و خطر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انہوں نے مظفرآباد سٹی کی نشست پر پیش آنے والے بعض واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بھی اس حلقے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور ہنگامہ آرائی کے حوالے سے اپنے تحفظات الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کرے گی۔ اگر تحقیقات کے دوران بے ضابطگیاں ثابت ہوئیں تو پارٹی ری پولنگ کا مطالبہ کرے گی، جبکہ ہنگامہ آرائی میں ملوث افراد کی نشاندہی بھی کر دی گئی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ انتخابات کے تیسرے مرحلے کی تکمیل کے بعد مسلم لیگ (ن) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں قائد ایوان کے انتخاب، حکومت سازی اور آئندہ سیاسی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلے کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت قائد نواز شریف کے وژن کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی منصوبوں، عوامی فلاح، بہتر طرزِ حکمرانی اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو اولین ترجیح دے گی تاکہ عوام سے کیے گئے تمام وعدے عملی طور پر پورے کیے جا سکیں۔

دوسری جانب وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے بھی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف مسلم لیگ (ن) کی نہیں بلکہ جمہوری نظام کی کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل مختلف خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا، تاہم الیکشن کمیشن اور متعلقہ اداروں کی مؤثر حکمت عملی کے باعث پولنگ کا عمل پرامن ماحول میں مکمل ہوا اور ریاستی رِٹ بھی برقرار رہی۔

امیر مقام نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی کامیابی پارٹی قیادت، کارکنوں اور عوام کے اعتماد کا نتیجہ ہے، نواز شریف کی انتخابی مہم، وزیراعظم شہباز شریف کی رہنمائی اور کارکنوں کی بھرپور محنت نے انتخابی نتائج پر مثبت اثر ڈالا، جس کے باعث پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ گئی ہے۔