اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے عوام کی اصل نمائندہ جماعت ہے اور ان کے مسائل کا سیاسی حل نکالنا ہی ہماری پہچان ہے۔ اسمبلی کی بقیہ مدت عوامی خدمت میں صرف کریں گے، اگر خدمت نہ کرسکے تو اس کی ذمہ داری ان کی اپنی ہوگی۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ پارٹی کی بنیاد ہی کشمیر کے مسئلے پر رکھی گئی تھی، پیپلز پارٹی تین نسلوں سے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے لڑ رہی ہے اور ہر فورم پر ان کا مقدمہ پیش کیا ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ گزشتہ الیکشن میں عمران خان کی حکومت کے دوران اسٹیبلشمنٹ کا کردار سب کے سامنے تھا، اس کے باوجود پیپلز پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا اور بھرپور مہم چلائی، لیکن ہماری جیت کو شکست میں تبدیل کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ غیرسیاسی سوچ کی وجہ سے کشمیر میں ایک سیاسی خلا پیدا کیا گیا، جس کا نقصان کشمیری عوام کو مقامی اور بین الاقوامی سطح پر برداشت کرنا پڑا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حکومت سازی پیپلز پارٹی کے لیے ایک امتحان ہوگی، لیکن عوام سے وعدہ ہے کہ انہیں مایوس نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ 25 اکتوبر کو پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ صدر مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں یہ بڑا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد 26 اکتوبر کو تحریک انصاف آزاد کشمیر کے 10 ارکان نے پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرلی۔

27 اکتوبر کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا۔ تاہم مسلم لیگ (ن) نے حکومت کا حصہ نہ بننے اور اپوزیشن میں بیٹھنے کا اعلان کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی تحریک عدم اعتماد کی حمایت کا فیصلہ کیا۔