اس معاہدے کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا، آزاد کشمیر حکومت کے نمائندگان اور عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان شریک تھے۔ اس موقع پر دونوں جانب سے مطالبات، تجاویز اور تحفظات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا اور مسئلے کے دیرپا حل کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا گیا۔
معاہدے کے مطابق احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے عدالتی کمیشن قائم کیا جائے گا، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں و مظاہرین کی ہلاکتوں پر اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے۔ زخمیوں کو فی کس 10 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے گا جب کہ مرنے والوں کے اہل خانہ کو بھی مالی امداد دی جائے گی۔
مظفرآباد اور پونچھ میں دو اضافی تعلیمی بورڈز قائم کیے جائیں گے اور 30 دن کے اندر تمام بورڈز کو فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن سے منسلک کر دیا جائے گا۔
منگلا ڈیم سے متاثرہ افراد کی زمینوں کو بھی 30 دن میں ریگولرائز کیا جائے گا۔ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کو 90 دنوں کے اندر اصل 1990 قانون کے مطابق بحال کیا جائے گا۔
صحت کے شعبے میں بھی اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، جن میں ہیلتھ کارڈ کے اجرا کے لیے 15 دن کے اندر فنڈز کا اجراء، ہر ضلع میں ایم آر آئی اور سی ٹی اسکین مشینوں کی فراہمی، تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں نرسز کی تعیناتی اور آپریشن تھیٹرز کا قیام شامل ہیں۔
بجلی کے نظام میں بہتری کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے 10 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ کابینہ کی تعداد کم کر کے 20 وزرا اور مشیر تک محدود کی جائے گی، جب کہ انتظامی سیکریٹریز کی تعداد بھی 20 سے زائد نہیں ہو گی۔ احتساب بیورو اور اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کو ضم کر کے نیا قانون نیب کے طرز پر نافذ کیا جائے گا۔
قانونی اصلاحات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی بنائی جائے گی، جس میں حکومت پاکستان، کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دو دو قانونی ماہرین شامل ہوں گے۔ یہ کمیٹی اسمبلی کے حلقہ جات اور ارکان کے حوالے سے سفارشات دے گی، اور اس کی رپورٹ تک نئی وزارتیں، رعایتیں اور فنڈز مختص نہیں کیے جائیں گے۔
دیگر تسلیم شدہ مطالبات میں دو سعودی فنڈ شدہ منصوبوں کی تعمیر، مہاجرین کی نشستوں کی معطلی، میرپور میں بین الاقوامی ایئرپورٹ کی فزیبلٹی، پراپرٹی ٹیکس میں اصلاحات، ہائیڈل پراجیکٹ پر عملدرآمد، پانی کی فراہمی، پلوں کی تعمیر، ایڈوانس ٹیکس میں کمی، تعلیمی اداروں میں اوپن میرٹ، پناہ گزینوں کو پراپرٹی رائٹس، اور ٹرانسپورٹ پالیسی کا عدالتی فیصلے کے مطابق جائزہ شامل ہیں۔
معاہدے کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جس میں حکومت پاکستان کے امیر مقام اور طارق فضل چوہدری، آزاد کشمیر حکومت کے دو نمائندے اور عوامی ایکشن کمیٹی کے دو ارکان شامل ہوں گے۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میر نے کہا کہ اگرچہ اس تحریک کے دوران قیمتی جانوں کا نقصان ہوا، لیکن ہم اپنے بیشتر مطالبات منوانے میں کامیاب رہے ہیں۔
انھوں نے جاں بحق افراد کے لیے تین روزہ سوگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ کمیٹی کے ایک اور رکن عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ ہمیں معاہدے پر مکمل اطمینان ہے، لیکن افسوس ہے کہ ریاست نے ابتدا میں طاقت کا استعمال کیا۔ انھوں نے تین دن بعد اظہار تشکر کا اعلان بھی کیا۔
عوامی ایکشن کمیٹی کے ارکان نے اس معاہدے کو ایک اہم سنگِ میل قرار دیا اور کہا کہ اگر حکومت آغاز ہی سے سنجیدگی دکھاتی تو جانی نقصان سے بچا جا سکتا تھا۔
واضح رہے کہ اگرچہ معاہدہ طے پا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود موبائل سگنلز اور انٹرنیٹ سروس بدستور معطل ہے اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے بہت کم ہے۔ شہری معمولاتِ زندگی کی بحالی کے منتظر ہیں۔







