اسلام آباد میں کشمیر کی صورتحال پر منعقدہ مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں نے معاملات کو اس نہج پر پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا کشمیر کے معاملے پر وہی مؤقف ہے جو کشمیری عوام کا ہے اور بنیادی مسائل پر سیاسی جماعتوں سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت نہ کرنا صورتحال کو مزید خراب کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوام کا اعتماد ختم ہو چکا ہے اور جب ووٹ کی اہمیت ختم ہو جائے تو ایسے ہی حالات پیدا ہوتے ہیں۔ اگر پوری اسمبلی ایک رات میں ایک طرف ہو جائے تو اپوزیشن کا کردار کیسے باقی رہ سکتا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ریاست کو چلانے والوں کو عوامی رائے کا احترام کرنا ہوگا کیونکہ عوام کو اعتماد میں لیے بغیر حالات بہتر نہیں ہو سکتے۔ چند افراد کے ہاتھ میں عوام کی تقدیر نہیں دی جا سکتی اور جتنی جلدی اس مسئلے کو حل کیا جائے گا، اتنا ہی بہتر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ عوامی مسائل سے انکار ممکن نہیں، تاہم غصے کا اظہار پاکستان اور کشمیر کے لیے قربانیاں دینے والوں کے خلاف نہیں ہونا چاہیے بلکہ نظام کی خرابیوں کو دور کیا جانا چاہیے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو نظر انداز کرکے کسی بھی مسئلے کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر صرف 12 نشستوں کی بات کی جاتی ہے تو باقی 33 نشستوں پر کس کا اختیار ہوتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی ٹیم نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے مذاکرات کیے ہیں اور بات چیت کا راستہ نکلا ہے۔ تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ مذاکرات کو موقع دیا جانا چاہیے اور اس وقت تصادم یا مزید ایکشن کی ضرورت نہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ریاست کو عوام کو بااختیار بنانا ہوگا اور نوجوانوں کے مسائل حل کیے جائیں تو پاکستان مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ان کے لیے کھلا ہے اور پاکستانی عوام کشمیریوں کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس حساس موقع پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی ضرورت نہیں اور وزیراعظم شہباز شریف کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر مذاکرات کا آغاز کریں۔ انہوں نے حکومت کو تین دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگر بات چیت شروع نہ ہوئی تو جماعت اسلامی عوامی جرگے کے ذریعے کشمیر جائے گی۔
حافظ نعیم الرحمان نے مزید کہا کہ حکومت اور ادارے ضد چھوڑ کر مذاکرات کا راستہ اپنائیں کیونکہ کوئی بھی چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا، جب کہ تاریخ میں نام اسی کا باقی رہتا ہے جو امن قائم کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کشمیری عوام کے اعتماد سے یہ معاملہ مثبت انداز میں حل ہو جائے گا۔
اس موقع پر امیر جماعت اسلامی آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد مشتاق نے کہا کہ کشمیر میں خونریزی روکنے کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈیا کشمیر کی موجودہ صورتحال کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جب کہ حافظ نعیم الرحمان کی ثالثی کی کوششیں قابلِ قدر ہیں۔ ان کوششوں سے پاکستان اور کشمیر کے درمیان اعتماد اور تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں کامیابی ملے گی۔






