وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا نے 41 ویں صوبائی کابینہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے صوبے کی آئندہ پالیسی گائیڈ لائنز جاری کر دیں۔ وزیرِاعلیٰ نے اپنے خطاب میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ کو قیدِ تنہائی میں رکھنے کی شدید مذمت کی۔

وزیرِاعلیٰ کےپی کا کہنا تھا کہ وفاقی وزرا کی جانب سے کی جانے والی پریس کانفرنس غیر انسانی، غیر اخلاقی اور مکمل طور پر غیر قانونی تھی۔

انہوں نے کہا کہ اس قسم کا رویہ عوام کو اشتعال دلانے اور حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کے مترادف ہے۔ صوبائی حکومت وفاقی وزراء کے اس طرزِ عمل کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان پورے پاکستان کے لیڈر ہیں اور ان کی اہلیہ ایک غیر سیاسی اور باپردہ خاتون ہیں، ان کے ساتھ ناروا سلوک کسی صورت قابل قبول نہیں۔

گڈ گورننس کے حوالے سے وزیرِاعلیٰ نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی گڈ گورننس روڈ میپ جاری کر چکی ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سرکاری اجلاسوں میں سول افسران جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کریں اور زیادہ سے زیادہ آن لائن شرکت کو فروغ دیں تاکہ سرکاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکے۔

انہوں نے اعلان کیا کہ صوبے کے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور خود مختار اداروں میں بھرتیاں صرف ایٹا کے ذریعے ہوں گی، کسی پرائیویٹ ٹیسٹنگ ایجنسی کو بھرتیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزیرِاعلیٰ نے بتایا کہ گزشتہ روز ہونے والے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے اجلاس میں صوبے کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا، اور تمام شرکاء نے صوبے کے اصولی مؤقف سے اتفاق کیا۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی نے ہر موقع ضائع کیا، بات چیت کا دروازہ اب بند ہو چکا ہے: عطا تارڑ

ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی ایوارڈ میں ضم اضلاع کا حصہ شامل نہیں ہے، جس کی مالیت 1375 ارب روپے بنتی ہے۔

طورخم بارڈر کی بندش پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ کےپی نے کہا کہ بارڈر 55 روز سے بند ہے جس سے ڈرائیوروں سمیت مرد، خواتین، بچے اور بزرگ شدید متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے خیبر کی ضلعی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ متاثرہ افراد کو کھانے پینے کی اشیاء اور تمام ضروری سہولیات فوری فراہم کی جائیں۔

سکیورٹی معاملات پر بات کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ کے پی نے اعلان کیا کہ سول افسران خصوصاً ضلعی انتظامیہ کو بلٹ پروف گاڑیاں ترجیحی بنیادوں پر فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری میں حائل تمام رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے۔