رپورٹ کے مطابق پنجاب کی پیرنی بشریٰ بی بی نے بانی کی ذاتی زندگی اور سیاست میں شدت پسندی اور عملیات کا رنگ چڑھایا۔ بانی پی ٹی آئی نے اقتدار کے حصول کے لیے دین داری کا لبادہ اوڑھے رکھا اور دنیاوی کامیابی کے لیے بشریٰ بی بی کی ہر بات پر عمل کیا۔ گھریلو ملازمین نے بتایا کہ بشریٰ بی بی کے عملیات کے لیے بازار سے مختلف اشیاء لائی جاتی تھیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ریاستی امور میں بشریٰ بی بی حرفِ آخر سمجھی جاتی تھیں، ان کی اجازت کے بغیر وزیراعظم کا طیارہ اڑان نہ بھرتا تھا اور بشریٰ بی بی کے حکم پر وفادار اور قریبی ساتھی و دیرینہ گھریلو ملازمین کو فارغ کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ون آن ون ملاقات میں بھی زیادہ تر وقت بشریٰ بی بی بولتی رہیں۔

مزید انکشافات میں بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی کی کرپشن سامنے آنے پر بانی پی ٹی آئی نے اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی عاصم منیر کو عہدے سے ہٹا دیا تھا۔

یہ رپورٹ پاکستان کی سیاست میں بنیادی فیصلوں اور اقتدار کے حصول میں ذاتی اور روحانی اثرات کی حقیقی تصویر پیش کرتی ہے۔