اختیار ولی خان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ کےپی حکومت کا رویہ افسوسناک ہے، گورننس، صحت، تعلیم اور امن و امان پر توجہ دینے کے بجائے سارا وقت جیل کے باہر احتجاج میں گزارا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت غیر قانونی مطالبہ کر رہی ہے کہ ان کی قیادت سے ملاقات کرائی جائے، جب کہ جیل مینوئل بار بار ملاقات کی اجازت نہیں دیتا۔ خیبرپختونخوا حکومت عوامی فلاح و بہبود کی بجائے دھرنوں میں مصروف ہے اور اگر یہی صورتحال رہی تو صوبے کے امور کون چلائے گا؟

عطاءاللہ تارڑ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کوئی سیاسی قیدی نہیں بلکہ 190 ملین پاؤنڈ میگا کرپشن کیس میں سزا یافتہ مجرم ہیں، جنہیں جیل میں وی وی آئی پی سہولیات میسر ہیں۔ کبھی کسی سیاسی قیدی کو اتنی مراعات نہیں دی گئیں جتنی بانی پی ٹی آئی کو دی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت کو امن و امان بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے تھی، لیکن یہ "ٹک ٹاک حکومت" لائکس اور شور مچانے میں مصروف ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان جیل میں مکمل طور پر محفوظ اور صحت مند، ملاقاتیں جیل قوانین کے مطابق کرائی جاتی ہیں: اڈیالہ جیل ذرائع

وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ صوبے میں تعلیم، صحت اور قانون و نظم بہتر بنانے کے بجائے سارا وقت دھرنوں میں ضائع ہو رہا ہے۔ وزیراعلیٰ کا زیادہ وقت صوبے کی بجائے جیل کے باہر گزرتا ہے، جو عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی رہنما انڈیا اور افغانستان کے میڈیا کو استعمال کر رہی ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر بھی انڈین ہینڈلرز سے مدد لی جا رہی ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے سوشل میڈیا دباؤ ڈالا جا رہا ہے لیکن حکومت قانون کے مطابق چلے گی، غیر قانونی مطالبات نہیں مانے جائیں گے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے القادر یونیورسٹی کیس میں قوم کی دولت پر ڈاکہ ڈالا اور ان کے پاس فارن فنڈنگ، توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ کیسز کا کوئی جواب نہیں ہے۔ عدالتوں میں بھی ان کے وکلاء مسلسل تاریخیں لیتے رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نعرہ لگانا کہ فلاں نہیں تو پاکستان نہیں، شرمناک ہے۔ پاکستانی سوشل میڈیا ہمیشہ ریاست کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور جھوٹے بیانیے کو شکست دے گا۔

عطاء اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں بہترین خوراک اور ورزش کی تمام سہولیات استعمال کر رہے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دس سال میں پنجاب کا نقشہ بدل دیا، جب کہ اگر موجودہ کےپی حکومت نے یہی طرز عمل جاری رکھا تو عوام ایک دن ان سے جواب طلبی کریں گے۔